ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

مردان کی چار سالہ معصوم بچی کو قتل کرنے والے قریبی رشتہ دار محمد نبی کا اعترافی بیان منظر عام پر آ گیا، ملزم قتل سے پہلے کیا کرتا رہا، لرزہ خیز انکشافات

datetime 18  فروری‬‮  2018 |

مردان (مانیٹرنگ ڈیسک) چار سالہ اسماء کے قاتل کے اعترافی بیان نے ساری کہانی کھول کر رکھ دی۔ ایک موقر قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسماء قتل کیس میں گرفتار ملزم کا اعترافی بیان منظر عام پر آ گیا ہے، اس درندہ صفت ملزم نے چار سالہ معصوم اسماء کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کی پوری کہانی بیان کر دی، قاتل نے اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ زیادتی کے بعد دایاں ہاتھ منہ پر رکھا اور بائیں ہاتھ سے معصوم اسماء کو مسل دیا،

واضح رہے کہ چار سالہ اسماء 13 جنوری کو تھانہ صدر کے علاقے گوجرگڑھی میں گھر کے سامنے کھیلتے ہوئی لاپتہ ہوگئی تھی، لاپتہ ہونے کے دو دن بعد اس کی لاش گنے کے کھیتوں سے ملی تھی، واضح رہے کہ پولیس کا موقف پہلے دن سے یہی تھا کہ بچی کے ساتھ زیادتی نہیں کی گئی لیکن فرانزک رپورٹ کے بعد ڈی این اے میچ ہونے کے بعد پولیس نے چار سالہ اسماء کے قاتل قریبی رشتہ دار محمد نبی کو گرفتار کرلیا۔ اسماء کے قاتل ملزم محمد نبی کے عدالت میں دیے گئے بیان کے بعد کم ازکم یہ گتھی سلجھ گئی ہے کہ قتل سے قبل معصوم بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی، موقر قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے گزشتہ روزملزم کو سینئر سول جج کی عدالت میں پیش کیا جہاں اس نے دفعہ 164/364 سی آر پی سی کے تحت اپنا بیان قلمبند کرایا اس کا یہ بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔ بارہ صفحات کے اعترافی بیان میں محمد نبی نے بتایا کہ وہ ہوٹل ایک ہوٹل پر کام کرتا ہے اور جس دن یہ واقعہ ہوا وہ محلے میں شادی کی وجہ سے چھٹی پر تھا۔ موقر قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسماء قتل کیس میں گرفتار ملزم کا اعترافی بیان منظر عام پر آ گیا ہے، اس درندہ صفت ملزم نے چار سالہ معصوم اسماء کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کی پوری کہانی بیان کر دی، قاتل نے اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ زیادتی کے بعد دایاں ہاتھ منہ پر رکھا اور بائیں ہاتھ سے معصوم اسماء کو مسل دیا، واضح رہے کہ چار سالہ اسماء 13 جنوری کو تھانہ صدر کے علاقے گوجرگڑھی میں گھر کے سامنے کھیلتے ہوئی لاپتہ ہوگئی تھی، لاپتہ ہونے کے دو دن بعد اس کی لاش گنے کے کھیتوں سے ملی تھی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…