منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

قصور کی ننھی زینب کے قاتل عمران کو سر عام پھانسی حکومت نے کیادبنگ اعلان کر دیا، عوام کے دل جیت لئے

datetime 17  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) زینب قتل کیس کا فیصلہ آنے کے بعد زینب کے والدین نے سیریل کلر عمران کو سر عام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ زینب کے والدین کے مطالبے کے بعد صوبائی وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ کا بھی بیان سامنے آیا ہے ۔ زینب قتل کے مجرم کو سزا دے کر عبرت کا نشان بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجرم کو عربت کا نشان بنانے کے فیصلے پر سب متفق ہیں،

مجرم کو سر عام پھانسی دینے کے مطالبے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ لیکن سر عام پھانسی دینے کے فیصلے سے پہلے عدالتی رہنمائی درکار ہو گی۔ واضح رہےزینب قتل کیس کی آج کوٹ لکھپت جیل میں انسداد دہشتگردی عدالت میں سماعت ہوئی۔ کیس کی سماعت جسٹس سجاد احمد کر رہے تھے۔ جسٹس سجاد احمد نے زینب قتل کیس میں محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے سیریل کلر عمران کو زینب قتل کیس میں 4مرتبہ سزائے موت سمیت عمر قید، 7سال قید اور مجموعی طور پر 32لاکھ جرمانے کی سزا سنائی۔ اسیکیوٹر جنرل احتشام قادر نے کہا کہ مجرم عمران علی کے پاس 15 دن ہیں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ فیصلے کے خلاف کوئی اپیل دائر کرے گا۔فیصلہ سنانےسے قبل جسٹس سجاد احمد نے سیریل کلر اور زینب قتل کیس کے مجرم عمران سے آخری وقت تک اس سے پوچھا کہ کیا زینب کو اس نے قتل کیا ہے جس پر عمران علی نے اللہ کو حاضر ناضر جان کر اپنے گھناؤنے جُرم کا اعتراف کیا۔زینب قتل کیس کا فیصلہ آنے کے بعد کوٹ لکھپت جیل کےباہر میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اسیکیوٹر جنرل احتشام قادر نے کہا کہ مجرم عمران علی کے پاس 15 دن ہیں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ فیصلے کے خلاف کوئی اپیل دائر کرے گا۔ پراسیکیوٹرجنرل احتشام قادر کا کہنا تھا کہ مجرم صدر مملکت ممنون حسین سے رحم کی اپیل بھی کر سکتا ہے۔ رحم کی اپیل منظور ہونے کی صورت میں مجرم کی

سزا معاف ہونے کا امکان ہے بصورت دیگر 15 دن کے بعد مجرم کو انسداد دہشتگردی کی عدالت کی جانب سے سنائی جانیوالی سزا پر عملدرآمد شروع کر دیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…