ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

اسحاق ڈارسینٹ کا الیکشن لڑ سکیں گے یا نہیں، ٹربیونل نے حتمی فیصلہ سنا دیا

datetime 17  فروری‬‮  2018 |

لاہور(سی پی پی) الیکشن ایپلٹ ٹریبونل لاہور نے سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو سینٹ الیکشن لڑنے کی اجازت دیتے ہوئے ریٹرننگ افسر کا انکے خلاف دیا گیا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا۔ہفتہ کو سینٹ الیکشن کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس امین الدین پر مشتمل ایپلیٹ ٹربیونل میں ایوانِ بالا کے انتخابات کے لیے سابق وزیر خزانہ اسحق ڈار کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔ٹربیونل کے سامنے اسحق ڈار کی

جانب سے ایڈووکیٹ سلمان اسلم بٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسحق ڈار کے ٹیکنوکریٹ اور جنرل نشست کے لیے دو کاغذات نامزدگی جمع کروائے گئے ہیں، اور دو نشستوں کے لیے دو علیحدہ علیحدہ بینک اکانٹس نہ کھولنے کو بنیاد بنا کر کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے۔انہوں نے کہا کہ ریٹرنگ افسر نے غیر تصدیق شدہ شناختی کارڈ جمع کروانے کو بھی بنیاد بنایا جبکہ انہوں نے امیدوار کے وکیل کو سنے بغیر کاغذات نامزدگی مسترد کیے تھے۔جسٹس امین الدین پر مشتمل ایپلیٹ ٹربیونل نے اسحق ڈار کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہونے پر فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیر خزانہ کو سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی۔دوسری جانب ایپلٹ ٹربیونل لاہور نے نزہت صادق اور سعدیہ عباسی کے خلاف اپیلیں خارج کرتے ہوئے وزیر اعظم کی ہمشیرہ اور نزہت صادق کو بھی الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔یاد رہے کہ 12 فروری کو سینیٹ الیکشن کے ریٹرننگ افسر برائے پنجاب نے اسحق ڈار کی جانب سے جمع کرائے گئے اقرار نامے کے معاملے پر سابق وزیر داخلہ کے کاغزاتِ نامزدگی مسترد کردیے تھے۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کی جانب سے اعتراض اٹھایا گیا تھا کہ اسحق ڈار ملک سے باہر ہیں اور اپنے اقرار نامے پر خود دستخط نہیں کر سکتے، جبکہ اسلام آباد کی احتساب

عدالت انہیں اشتہاری بھی قرار دے چکی ہے لہذا ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جائیں۔واضح رہے کہ ایوان بالا میں سینیٹرز کی نشست 6 سال کی مدت پر محیط ہوتی ہے اور تقریبا ہر تیسرے سال 50 فیصد سینیٹرز ریٹائر ہوتے ہیں اور پھر خالی نشستوں پر نئے سینیٹرز کے لیے انتخابات کرائے جاتے ہیں۔خیال رہے کہ 104 سینیٹرز پر مشتمل ایوان بالا میں 52 سینیٹرز اپنی 6 سالہ مدت پوری کرکے 11 مارچ کو ریٹائرر ہو جائیں گے۔

الیکشن کمیشن سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ 8 فروری تھی، جبکہ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے لیے 12 فروری تک کا وقت مقرر کیا گیا تھا۔علاوہ ازیں کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد ہونے کے خلاف اپیلیں 15 فروری تک دائر کی جا سکیں گی۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ان اپیلوں پر فیصلہ 17 فروری تک کیا جائے گا اور امیدواروں کی حتمی فہرست 18 فروری

کو شائع کی جائے گی جبکہ کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ 19 فروری مقرر کردی گئی۔یاد رہے کہ حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن)کے 27 میں سے 9 سینیٹ ارکان رواں برس ریٹائر ہوں گے جن میں خود ساختہ جلاوطنی کاٹنے والے سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار بھی شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…