ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

مجھے قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے اور۔۔۔!زینب قتل کیس کے ملزم عمران نے کیا کچھ بتایاتھا؟ملزم عمران کے وکیل مہر شکیل ملتانی کے حیرت انگیز انکشافات

datetime 14  فروری‬‮  2018 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کوٹ لکھپت جیل میں زینب قتل کیس کا ٹرائل مسلسل تیسرے روزے بھی جاری رہا ،وکلاء کو  جمعرات  صبح نو بجے حتمی بحث کیلئے طلب کرلیا گیا ۔گزشتہ روز کوٹ لکھپت جیل میں انسداد دہشتگردی عدالت کے جج سجاد احمد نے زینب قتل کیس کی سماعت کی جس میں مزید گواہان کے بیانات ریکارڈ کئے گئے ۔ سماعت کے دوران پراسیکیوٹر جنرل احتشام قادر سمیت دیگر اعلیٰ جوڈیشل افسران بھی موجود تھے۔

عدالت نے تمام گواہان اور ملزم کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد وکلاء کو حتمی بحث کیلئے طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت آج جمعرات صبح نو بجے تک کیلئے ملتوی کردی ۔قبل ازیں انسداد دہشتگردی عدالت نے زینب قتل کیس کے مرکزی ملزم محمد عمران کے وکیل مہر شکیل ملتانی کی جانب سے کیس سے دستبردار ہونے کے اعلان کے بعد ملزم کو سرکاری وکیل کی خدمات فراہم کر دیں۔ملزم عمران کے وکیل مہر شکیل ملتانی کا کہنا تھاکہ عمران ہی زینب سمیت 9 بچیوں کا قاتل ہے، یہ ایک درندہ صفت انسان ہے، اسے سخت سے سخت سزا دے دی جائے۔ملزم نے مجھ سے کہا تھا کہ مجھے قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے تاہم اس نے بعد میں اقبال جرم بھی کر لیا۔ملزم عمران کے وکیل مہر شکیل ملتانی کی جانب سے اپنا وکالت نامہ واپس لیتے ہوئے کیس سے دستبردار ہونے کے اعلان کے بعد سرکاری وکیل محمد سلطان کو ملزم عمران کا وکیل مقرر کردیا گیا ہے۔ کوٹ لکھپت جیل میں زینب قتل کیس کا ٹرائل مسلسل تیسرے روزے بھی جاری رہا ،وکلاء کو  جمعرات  صبح نو بجے حتمی بحث کیلئے طلب کرلیا گیا ۔گزشتہ روز کوٹ لکھپت جیل میں انسداد دہشتگردی عدالت کے جج سجاد احمد نے زینب قتل کیس کی سماعت کی جس میں مزید گواہان کے بیانات ریکارڈ کئے گئے ۔ سماعت کے دوران پراسیکیوٹر جنرل احتشام قادر سمیت دیگر اعلیٰ جوڈیشل افسران بھی موجود تھے۔عدالت نے تمام گواہان اور ملزم کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد وکلاء کو حتمی بحث کیلئے طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت آج جمعرات صبح نو بجے تک کیلئے ملتوی کردی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…