ہفتہ‬‮ ، 03 جنوری‬‮ 2026 

نواز شریف کی تاحیات نا اہلی سپریم کورٹ نے فیصلہ کر لیا

datetime 14  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نےآئین کے آرٹیکل 62ایف ون کی تشریح سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے آئین کے آرٹیکل 62ایف ون کی تشریح سے متعلق کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران اٹارنی جنرل اشتراوصاف نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کی جانب سے قانون سازی ہونے تک نااہلی برقراررہے گی

،نااہلی کاداغ اس شخص کی موت تک نہیں ہوگا۔جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نااہلی کاداغ ختم ہوئے بغیرنااہلی تاحیات رہے گی۔اس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ کیانااہل شخص ڈیکلیریشن کے بعداگلاالیکشن لڑسکتاہے؟۔اٹارنی جنرل اشتراوصاف نے کہا کہ نااہلی کی مدت کاتعین کیس ٹوکیس ہوناچاہئے،جب تک کسی عدالت کاڈیکلیریشن نہ آجائے نااہلی برقراررہے گی۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ نااہلی کی مدت کااختتام کیسے ہوگا؟،آرٹیکل 62 ون ایف میں نااہلی کی مدت کاتعین نہیں کیاگیا،کیانااہلی کاداغ غیرامین اورغیرایماندارشخص کے بعدبھی رہے گا،چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ کیاعدالت نااہلی کافیصلہ دیتے وقت مدت کاتعین کرےگی؟۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریٹرننگ افسرعدالتی گائیڈلائن پرنااہلی کاتعین کرےگا۔اس پر جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ کیاڈیکلیریشن وقت کےساتھ خودبخودختم ہوجائےگی؟۔اٹارنی جنرل اشتراوصاف نے کہا کہ ڈیکلیریشن ازخودختم نہیں ہوسکتی،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیانااہلی کی مدت کے تعین کیلئے نئی ترمیم نہیں کرناہوگی؟۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ مدت کے تعین کیلئے ترمیم ضروری ہے،یہ معاملہ پارلیمنٹ کوحل کرناچاہیے۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد نااہلی مدت کیس پر فیصلہ محفوظ کر لیا ۔واضح رہے کہ آئین کے آرٹیکل 62ایف ون میں نا اہلی کا تو ذکر موجود تھا تاہم اس کی مدت سے متعلق ابہام کی وجہ سے نااہلی کی مدت کے تعین کی تشریح کیلئے سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت شروع کی تھی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر


میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…