منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

شاہزیب قتل کیس کے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی کو ہسپتال کیوں منتقل کیا؟چیف جسٹس ثاقب نثار نے بڑا حکم جاری کردیا

datetime 13  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے شاہزیب قتل کیس کے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی کو ہسپتال منتقل کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی جیل خانہ جات سے 24 گھنٹے کے اندر رپورٹ طلب کر لی ہے۔تفصیلات کے مطابق یکم فروری کو سپریم کورٹ نے شاہ زیب قتل کیس سے

متعلق سول سوسائٹی کی جانب سے دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئےکیس کے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی سمیت سجاد تالپور اور سراج تالپور کو دوبارہ گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔گرفتاری کے بعد اگلے ہی روز شاہ رخ جتوئی کو اسلام آباد سے کراچی منتقل کر دیا گیا تھا جہاں دو روز بعد ہی کمر کی تکلیف کے باعث شاہزیب قتل کیس کے مرکزی ملزم کو جناح ہسپتال منتقل کر دیا گیا ۔جس کا چیف جسٹس ثاقب نثار نے نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کرلی ہے ۔یاد رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں سیشن جج جنوبی کی عدالت نے شاہزیب قتل کیس میں نامزد شاہ رخ جتوئی سمیت تمام ملزمان کو ضمانت کر رہا کرنے کا حکم دیا تھا اور شاہ رخ جتوئی کو جب رہا کیا گیا تو اس وقت بھی وہ جناح ہسپتال میں زیر علاج تھے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں شاہ زیب قتل کیس کے ملزمان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں بھی رکھے جانے کا حکم دیا تھا۔عدالت عظمی کے حکم پر وزارت داخلہ نے شاہ رخ جتوئی سمیت تمام ملزمان کے نام ای سی ایل میں ڈال دئیے تھے۔ 2012ء میں کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں پولیس آفیسر اورنگزیب کے جوان سالہ بیٹے شاہ زیب کو جھگڑے کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی جانب سے ازخود نوٹس لیے جانے کے بعد ملزمان کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…