ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

زینب قتل کیس ،سماعت آج سے شروع،ملزم عمران نے زینب سمیت کنی بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کیا ،ڈی این اے کتنے کیسز میں میچ کرگیا ؟ پراسیکیوشن کے چونکادینے والے انکشافات

datetime 9  فروری‬‮  2018 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں قصور میں معصوم بچی زینب کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے ملزم عمران کے خلاف چالان جمع کروا دیا گیا ، عدالت نے ملزم کو پیش کرنے میں سکیورٹی مسائل کی وجہ سے آئندہ کیس کا ٹرائل جیل میں کرنے کی استدعا منظور کرتے ہوئے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا ، ملزم کی طرف سے مہر شکیل ملتانی نے وکالت نامہ جمع کرا دیا، کیس کی باقاعدہ سماعت آج ( ہفتہ ) سے شروع ہو گی ۔

گزشتہ روز انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے ایڈمن جج شیخ سجاد احمد نے کیس کی سماعت کی ۔ملزم عمران کو سخت سکیورٹی حصار میں عدالت پیش کیا گیا ۔ پراسیکیوشن نے زینب قتل کیس کا چالان انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں جمع کرا دیا، چالان میں پراسیکیوشن کا کہنا تھا کہ ملزم عمران نے زینب سمیت دیگر بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کیا جبکہ ملزم عمران کا ڈی این اے 8کیسز میں میچ کرگیا ہے۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی ہدایت پر زینب قتل کیس کی سماعت 7دن میں مکمل کریں گے اور زینب قتل کیس کا فیصلہ شہادتوں کی بنیاد پر ہو گا۔اس حوالے سے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے تین رکنی ٹیم تشکیل دے دی جن میں پراسیکیوٹر عبدالروف وٹو، وقار بھٹی اور حافظ اصغر شامل ہیں۔عدالتی سماعت کے موقع پر ملزم کی طرف سے ایڈووکیٹ مہر شکیل ملتانی نے وکالت نامہ بھی جمع کرا دیا اور اپنے موکل پر پر لگنے والے تمام الزامات کو بد نیتی پرمبنی قرار دیتے ہوئے کہاکہ ملزم کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا اور ڈی این اے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ پراسکیوٹر کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم سے تفتیش مکمل کرلی گئی ہے اور ملزم عمران علی کی ڈی این اے سے تصدیق کی گئی، سیریل کلر نے جرم کا اعتراف کیا۔ ملزم کے خلاف مختلف نوعیت کے شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں۔جن میں ملزم کی سی سی ٹی وی فوٹیج، فوٹو پرنٹ، پولی گراف ٹیسٹ، ڈی این اے رپورٹ، ملزم کے کپڑے اور میڈیکل ٹیسٹ شامل ہے۔

پراسکیوٹر کی جانب سے استدعا کی گئی کہ ملزم کی سکیورٹی کے مسائل ہیں، اس لیے ملزم کو عدالت میں پیش کرنا مناسب نہیں، ملزم کا جیل میں ٹرائل کیا جائے۔جس پر عدالت نے پراسکیوٹر کی استدعا منظور کرلی اور ملزم کے وکیل مہر شکیل ملتانی کو روزانہ کی بنیاد پر سماعت کے لیے پابند کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی تمام مصروفیات ترک کردیں اور اگر آپ کو اسٹیٹ کونسل کی ضرورت ہے تو بتائیں۔ جس پر ملزم کے وکیل نے انکار کرتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر پیش ہونے کی یقین دہانی کرائی۔ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیس انتہائی اہمیت کا حامل ہے،سب کی اس مقدمے کے فیصلے پر نظریں مرکوز ہیں۔ عدالت نے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوادیا۔کیس کی باقاعدہ سماعت آج ( ہفتہ ) سے شروع ہو گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…