کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) مقامی مارکیٹ میں چائنیز کرنسی کی قدر 14 روپے کی مارکیٹ ویلیو سے 30فیصد بڑھ کر17 روپے کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔ نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق چین کے تاجروں کو مقامی کرنسی میں لین دین کی اجازت کے نتیجے میں افغانستان ایران کے بعد اب چائنیز ٹریڈرز بھی مقامی مارکیٹ میں متحرک ہوگئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ غیرملکی تاجروں کی طرف سے اپنی مصنوعات خود درآمد کرکے مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے اور اس کے بعد اوپن مارکیٹ سے زرمبادلہ میں منتقل کرکے اپنے ممالک کو ترسیل سے اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر و دیگر غیرملکی کرنسیوں کی طلب میں اضافہ ہو گیا ہے۔ مقامی مارکیٹ میں چائنیز کرنسی کی قدر 14 روپے کی مارکیٹ ویلیو سے 30فیصد بڑھ کر17 روپے کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک بوستان نے بتایا کہ ڈالرکی قدر میں اضافے کی ایک بڑی وجہ فارن کرنسی کی اسمگلنگ بھی ہے جس پرکراچی ایئرپورٹ پر اگرچہ قابو پا لیا گیا ہے لیکن پشاورکوئٹہ سمیت دیگر ایئرپورٹس اورسرحدوں سے یومیہ تقریباََ 10ملین ڈالراسمگل ہو کر باہر جا رہے ہیں جس پر قابو پانے کے لیے تجویز ہے کہ مرکزی بینک ایئرپورٹس یا سرحدوں پر اسمگل کی جانے والی فارن کرنسی کا 50 فیصد پکڑنے والی متعلقہ ایجنسی یا حکام کو بطور ری بیٹ دینے کی اسکیم کا اعلان کرے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کی طرف سے ان تجاویز کو عملی جامہ پہنایا گیا تو روپے کی قدر مزیدمستحکم ہوجائے گی اور مقامی ایکس چینج کمپنیوں کی مشترکہ لائحہ عمل کے تحت اگلے10 یوم میں ڈالر کی قدر گھٹ کر111.50 روپے کی سطح پر آجائے گی۔واضح رہے کہ چینی کرنسی میں لین دین کی اجازت کے بعد چینی یوان کی قیمت میں اتنا زیادہ اضافہ ہو گیا ہے کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا۔ یوان کی قدر 14 روپے سے بڑھ کر 17 روپے کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔



















































