ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

ٹرمپ کے تند و تیز بیانات اور پاکستان کے سخت جواب کے بعدبات حد سے زیادہ بڑھ گئی، امریکہ پاکستان پر حملے کیلئے تیار،امریکی کمانڈرز کو بڑا حکم جاری،خطرے کی گھنٹی بج گئی

datetime 1  فروری‬‮  2018 |

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک ) وائٹ ہاؤس نے کہاہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جنوبی ایشیائی پالیسی کے تحت پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں سے نمٹنے کے لیے خطے میں موجود امریکی کمانڈرز کو ضروری وسائل اور اختیارات دے دئیے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہاگیاکہ خطے میں موجود امریکی کمانڈرز کو پاکستان میں موجود مبینہ محفوظ پناہ گاہوں سے نمٹنے کے لیے تمام اختیارات ہوں گے۔

بیان میں کہا گیا کہ ٹرمپ انتطامیہ کی مشروط جنوبی ایشیائی پالیسی کے تحت پاکستان اور افغانستان میں دہشتگردوں اور ان کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنے کے لیے وہ تمام وسائل فراہم کیے جائیں گے جو امریکی کمانڈرز کو ضروری ہوں گے۔دریں اثناء امریکہ نے کہاہے کہ وہ پاکستان کی حمایت حاصل کرنے میں مصروف اورمذاکرات کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی ڈپٹی سیکریٹری آف اسٹیٹ جوہن جے سلیوان نے ٹرمپ انتظامیہ کی جنوبی اشیائی پالیسی کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ اس پالیسی پر عملدرآمد کے لیے امریکہ پاکستان کی حمایت حاصل کرنے میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری لڑائی افغانستان میں موجود طالبان، انتہا پسند عناصر اور دہشت گرد گروپوں سے ہے اور نئی ایشیائی حکمت عملی خطے کی پالیسی ہے ، جس کی توجہ افغانستان میں حالات کی بہتری ہے لیکن اس یہ پالیسی وسیع علاقائی نقطہ نظر رکھتی ہے، جس میں پاکستان، بھارت اور دیگر ممالک کے ساتھ علاقائی تعاون شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا عمل جاری رکھیں گے اور ہماری اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیائی پالیسی کے تحت پاکستان کے بارے میں توقعات واضح ہیں۔امریکی ڈپٹی سیکریٹری اسٹیٹ کا کہنا تھا کہ ہم افغان حکومت کے پاکستان کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات جاری رکھنے کے عمل کی تائید کرتے ہیں اور پاکستان کو مسئلے کے حل کا حصہ بننا ضروری ہے اور یہی ہماری جنوبی ایشائی پالیسی کا مرکز ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…