ہفتہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2026 

صدر مملکت ممنون حسین اور ترک صدر رجب طیب اردوان کی ملاقات،یمن کی صورتحال پر تشویش کا اظہار

datetime 25  اپریل‬‮  2015 |

استنبول(نیوزڈیسک)صدر مملکت ممنون حسین اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے یمن کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسئلہ کے جلد حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔یہ بات صدر مملکت ممنون حسین نے اپنے ترک ہم منصب رجب طیب اردوان سے استنبول میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ صدر مملکت ممنون حسین نے کہا کہ پاکستان یمن تنازعے کے جلد اور پرامن حل کے لیے کوششیں کررہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کی خودمختاری اور سالمیت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے۔ پاکستان کی پہلے دن سے یہ پالیسی ہے کہ حرمین شریفین کی حرمت پر کوئی ا?نچ نہیں ا?نے دی جائے گی۔ دونوں صدور نے یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے صدر منصور ہادی کی قانونی حکومت کو ختم کرنے کی مذمت کی اور کہا کہ حوثی باغیوں کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔ دونوں صدور نے یمن تنازعہ کے جلد از جلد حل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان بہترین سیاسی تعلقات ہیں جبکہ اقتصادی تعلقات صلاحیت سے کم ہیں جس میں فوری اضافے کی ضرورت ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ ترک حکومت کی جانب سے پاکستان کو جی ایس پی پلس کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ ترکی اس معاملہ کا ازسر نو جائزہ لے گا۔ صدر مملکت نے کہا کہ بہت سی ترک کمپنیوں نے داسو ڈیم کی تعمیر میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ انھوں نے ترک کمپنیوں کو پاکستان میں انفراسٹرکچر اور تعمیرات کے شعبے اور ڈیموں کی تعمیر میں سرمایہ کاری کرنے کا کہا ہے۔ انھوں نے پاکستان اور ترکی کے درمیان ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ صدر مملکت نے ترک صدر کی جانب سے ترک کمپنیوں کی پاکستان میں خصوصاً ہائیڈرو منصوبوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کو سراہا۔ صدر مملکت نے امید ظاہر کی کہ سیکیورٹی، دفاع اورانسداد دہشت گردی میں دونوں ممالک کا تعاون جاری رہے گا۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور ترکی بحیثیت دوست اور بھائی خوشی اور غم میں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہے ہیں۔ دوطرفہ دوروں سے دونوں ملکوں کے درمیان باہمی ہم آہنگی اور اتحاد کو مزید فروغ ملے گا۔ صدر مملکت نے کہا کہ چناکلی جنگ کی صد سالہ تاریخی تقریبات میں شرکت ان کے لیے باعث مسرت ہے۔ پاکستان بھی ان بہادر ترک سپاہیوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے جنھوں نے اپنی جان کا نظرانہ پیش کرکے آزاد ترک مملکت کی بنیاد رکھی۔ اس موقع پر ترک صدر نے چناکلی جنگ کی تقریبات میں شرکت کرنے پر صدر مملکت کا شکریہ ادا کیا۔صدر مملکت نے ترکی کی موجودہ متحرک قیادت میں ترک قوم کی بے مثال ترقی کی تعریف کی۔ انھوں نے کہا کہ فروری 2015 میں اسلام ا?باد میں منعقد ہونے والی اعلیٰ سطح کا اسٹریٹیجک تعاون اجلاس دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں جاری دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لینے میں معاون ثابت ہوگا۔صدر مملکت نے دوطرفہ تعاون کو مزید بڑھانے کے لیے پارلیمانی، ثقافتی، میڈیا اور عوامی سطح پر رابطوں کی ضرورت پر زور دیا۔ صدر مملکت نے اپنے ترک ہم منصب کو دورہ پاکستان کی دعوت دی جو انھوں نے قبول کر لی۔ صدر ممنون حسین نے امید ظاہر کی کہ ترک صدر جلد ہی پاکستان کا دورہ کریں گے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…