پیر‬‮ ، 23 فروری‬‮ 2026 

شام میں فوجی آپریشن، ترک صدر طیب اردوان نے خود محاذ جنگ میں اترنے کا اعلان کر دیا، یورپی ممالک اور امریکہ کو سانپ سونگھ گیا

datetime 29  جنوری‬‮  2018 |

انقرہ (آئی این پی)ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ شام کے علاقے عفرین میں جاری شاخِ زیتون آپریشن میں 7 ترک فوجی جاں بحق ہو گئے ہیں،ضرورت پڑی تو چیف کمانڈر کی حیثیت سے پہلے میں عفرین پہنچوں گا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترک صدر نے جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے آماسیا ضلعی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برصیا پہاڑ کا کنٹرول سنبھال لیا گیا ہے

اور آپریشن کے دوران 7 ترک فوجیوں اور 13 آزاد شامی فوج کے اہلکاروں سمیت کل 20 افراد شہید ہو گئے ہیں۔یورپی پارلیمنٹ میں ترک فوجیوں کے بارے میں الٹی سیدھی باتیں کئے جانے کے باوجود آپریشن شروع ہونے کا ذکر کرتے ہوئے صدر اردگان نے کہا کہ یورپی پارلیمنٹ میں بعض زبان دراز میرے فوجیوں کے لئے قابض کے الفاظ استعمال کر رہے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ قبضہ کرنا آپ کی عادت ہے آپ نے افریقہ میں کیا کیا کچھ نہیں کیا۔ آپ کی تاریخ قبضوں اور استعماریت سے بھری پڑی ہے لیکن ترک ملت کی تاریخ میں قبضے کا لفظ موجود نہیں ہے اس کے برعکس عدل و انصاف اور مرحمت و شفقت موجود ہے۔صدر اردگان نے کہا کہ یہ بد اخلاق جرمنی میں دہشتگرد تنظیم سے ہماری مساجد پر اور ہمارے شہریوں پر حملے کرواتے ہیں اور اپنی پولیس کے ساتھ مل کر اس کا تماشا دیکھتے ہیں۔صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی کی نظر شام کی زمین پر نہیں ہے۔ لیکن اس وقت ساڑھے 3 ملین شامی مہاجرین ہمارے ملک میں پناہ لئے ہوئے ہیں ہم انہیں ان کے گھروں میں بھیجنے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ ہم، 2 ہزار کلو میٹر زمین کو کنٹرول میں رکھے ہوئے ہیں اور ایک لاکھ 30 ہزار مہاجرین اس 2 ہزار کلو میٹر علاقے میں چلے گئے ہیں۔ آزاد شامی فوج اور میرے مہمد “ترک فوجی” شانہ بہ شانہ آگے بڑھ رہے ہیں۔انہوں نے شہریوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت پڑی تو

چیف کمانڈر کی حیثیت سے پہلے میں عفرین پہنچوں گا اور میرے پیچھے آپ آئیں گے۔صدر رجب طیب اردگان نے کہا کہ دلیر ترک فوجیوں نے پہلے فرات ڈھال آپریشن کے علاقے میں داستان رقم کی اور اب عفرین میں داستان رقم کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…