جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

شام میں فوجی آپریشن، ترک صدر طیب اردوان نے خود محاذ جنگ میں اترنے کا اعلان کر دیا، یورپی ممالک اور امریکہ کو سانپ سونگھ گیا

datetime 29  جنوری‬‮  2018 |

انقرہ (آئی این پی)ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ شام کے علاقے عفرین میں جاری شاخِ زیتون آپریشن میں 7 ترک فوجی جاں بحق ہو گئے ہیں،ضرورت پڑی تو چیف کمانڈر کی حیثیت سے پہلے میں عفرین پہنچوں گا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترک صدر نے جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے آماسیا ضلعی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برصیا پہاڑ کا کنٹرول سنبھال لیا گیا ہے

اور آپریشن کے دوران 7 ترک فوجیوں اور 13 آزاد شامی فوج کے اہلکاروں سمیت کل 20 افراد شہید ہو گئے ہیں۔یورپی پارلیمنٹ میں ترک فوجیوں کے بارے میں الٹی سیدھی باتیں کئے جانے کے باوجود آپریشن شروع ہونے کا ذکر کرتے ہوئے صدر اردگان نے کہا کہ یورپی پارلیمنٹ میں بعض زبان دراز میرے فوجیوں کے لئے قابض کے الفاظ استعمال کر رہے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ قبضہ کرنا آپ کی عادت ہے آپ نے افریقہ میں کیا کیا کچھ نہیں کیا۔ آپ کی تاریخ قبضوں اور استعماریت سے بھری پڑی ہے لیکن ترک ملت کی تاریخ میں قبضے کا لفظ موجود نہیں ہے اس کے برعکس عدل و انصاف اور مرحمت و شفقت موجود ہے۔صدر اردگان نے کہا کہ یہ بد اخلاق جرمنی میں دہشتگرد تنظیم سے ہماری مساجد پر اور ہمارے شہریوں پر حملے کرواتے ہیں اور اپنی پولیس کے ساتھ مل کر اس کا تماشا دیکھتے ہیں۔صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی کی نظر شام کی زمین پر نہیں ہے۔ لیکن اس وقت ساڑھے 3 ملین شامی مہاجرین ہمارے ملک میں پناہ لئے ہوئے ہیں ہم انہیں ان کے گھروں میں بھیجنے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ ہم، 2 ہزار کلو میٹر زمین کو کنٹرول میں رکھے ہوئے ہیں اور ایک لاکھ 30 ہزار مہاجرین اس 2 ہزار کلو میٹر علاقے میں چلے گئے ہیں۔ آزاد شامی فوج اور میرے مہمد “ترک فوجی” شانہ بہ شانہ آگے بڑھ رہے ہیں۔انہوں نے شہریوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت پڑی تو

چیف کمانڈر کی حیثیت سے پہلے میں عفرین پہنچوں گا اور میرے پیچھے آپ آئیں گے۔صدر رجب طیب اردگان نے کہا کہ دلیر ترک فوجیوں نے پہلے فرات ڈھال آپریشن کے علاقے میں داستان رقم کی اور اب عفرین میں داستان رقم کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…