ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

زینب کے قاتل ملزم عمران کوپولیس کے کس قابل اور بہادر پولیس افسر نے پکڑا،ظالم درندے کو پکڑنے کیلئے کیا جال بچھایا گیا تھا، جان کر آپ بھی داد دئیے بغیر نہ رہ سکیں گے

datetime 23  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ زینب قتل کیس کا مرکزی ملزم گرفتارکر لیا گیا ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق پولیس نے ملزم جس کی شناخت عمران ولد ارشد کے نام سے ہوئی کو پاکپتن سے گرفتار کیا ہے جو کہ زینب قتل کے بعد شہر سے فرار ہو کر پاکپتن چلا گیا تھا

اور وہاں اس نے اپنا حلیہ بھی تبدیل کر لیا تھا۔۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزم زینب کا ہمسایہ اور روڈ کوٹ کا رہائشی ہے۔ ملزم کو ڈی پی او قصور زاہد مروت نے گرفتار کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈی پی او قصور زاہد مروت مسلسل زینب قتل کیس میں ملنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج سے ملنے والی لیڈ پر کام کررہے تھے ، اس سی سی ٹی وی فوٹیج میں قابل زاہد مروت نے اندازہ لگالیا تھا کہ زینب جس شخص کے اشارے پر اس کے پیچھے چل پڑتی ہے تو یہ کوئی قریبی شخص ہے جس سے زینب مانوس ہے۔ زاہد مروت اپنے اہلکاروں کے ذریعے مسلسل زینب کے گھر کے قرب و جوار میں رہنے والے افراد سے متعلق نہایت خاموشی سے ڈیٹا اکٹھا کرتے رہے اور پھر اسی دوران ان کو اچانک قصور ہنگاموں کے موقع پر شہر سے غائب ہو جانے والے عمران پر ہوا جو کہ زینب کا پڑوسی بھی تھا ۔ عمران پیشے سے الیکٹریشن اور زینب کا پڑوسی تھا جس کا گھرزینب کے گھر سے 9ویں نمبر پر تھا۔ زاہد مروت نے نہایت خاموشی اور سکریسی سے کام لیتے ہوئے عمران سے متعلق معلومات حاصل کرنا شروع کر دیں اور پھر اس کو تلاش کرنے کا کام بھی نہایت خاموشی سے جاری رکھا اور پھر جیسے ہی عمران زاہد مروت کے بچھائے جال میں پھنسا اس کو دبوچ لیا گیا۔واضح رہے کہ پولیس نے قصور ہنگاموں کے موقعوں پر مشتبہ افراد میں عمران کو بھی شامل تفتیش کیا تھا جس کو بعد میں رہا کر دیا گیا تھا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…