ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

ایک اور بڑا سکینڈل کھڑا ہوگیا،ہزاروں برطانوی شہریوں کی پاکستان سے جعلی ڈگریوں کی خریداری،نیشنل ہیلتھ سروسز کے معاونین، نرسیں اور ایک بڑا دفاعی کنٹریکٹر بھی شامل،برطانوی نشریاتی ادارے کے انکشافات

datetime 16  جنوری‬‮  2018 |

لندن (این این آئی)بی بی سی کی ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں برطانوی شہریوں نے پاکستان سے جعلی ڈگریاں خریدی ہیں۔بی بی سی ریڈیو فور کے پروگرام فائل آن فور کی تحقیقات کے مطابق ان ڈگریوں کی مالیت لاکھوں پاونڈ ہے۔اِن جعلی ڈگریوں کے خریداروں میں نیشنل ہیلتھ سروسز کے معاونین، نرسیں اور ایک بڑا دفاعی کنٹریکٹر بھی شامل ہے ٗ یہاں تک کہ ایک برطانوی خریدار نے جعلی دستاویزات حاصل کرنے کے لیے پانچ لاکھ پاونڈ خرچ کیے۔

برطانوی محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ وہ جعلی ڈگریوں کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کر رہا ہے۔بی بی سی کے مطابق دنیا کی سب سے بڑی آئی ٹی کمپنی ہونے کا دعوی ٰکرنے والی کمپنی اگزیکٹ سینکڑوں کی تعداد میں جعلی آن لائن یونیورسٹیوں کا ایک نیٹ ورک کراچی میں ایک کال سینٹر کے ذریعے چلا رہی ہے۔بروکلن پارک یونیورسٹی اور نکسن یونیورسٹی جیسے ناموں کے ساتھ اِس کمپنی کے اشہارات انٹرنیٹ پر دیکھے جا سکتے ہیں جن میں مسکراتے طلبہ و طالبات نظر آئے یہاں تک کہ ان جعلی اداروں کی تعریف میں جعلی مضامین تک انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔بی بی سی کو ملنے والی دستاویزات کے مطابق 2013 اور 2014 میں برطانیہ میں مقیم خریداروں کو اگزیکٹ کی تین ہزار سے زیادہ جعلی ڈگریاں بیچی گئیں جن میں پی ایچ ڈی، ڈاکٹریٹ اور ماسٹرز کی ڈگریاں بھی شامل تھیں۔رپورٹ کے مطابق بی بی سی نے برطانوی خریداروں کی فہرست دیکھی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کے جعلی ڈگریاں حاصل کرنے والوں میں برطانیہ کے ہسپتالوں میں کام کرنے والے لوگ بھی ہیں جن میں امراضِ چشم کے ماہرین ، نرسیں، ماہرینِ نفسیات اور بہت سے کنسلٹنٹس بھی شامل ہیں۔2015 میں اگزیکٹ کمپنی نے دنیا بھر میں دو لاکھ پندرہ ہزار سے زائد جعلی ڈگریاں فروخت کیں۔

یہ ڈگریاں تقریباً ساڑھے تین سو جعلی ہائی سکولوں اور یونیورسٹوں کے ذریعے بیچی گئیں۔ ایگزیکٹ نے اِس کاروبار میں صرف 2015 میں تین کروڑ ستر لاکھ پاونڈ کمائے۔امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے ایک سابق اہلکار ایلن ایزل 80 کی دہائی سے اگزیکٹ کے بارے میں تفتیش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں ڈگریوں کی بہت اہمیت ہے۔ جب تک ان کاغذات کی اہمیت ہے کوئی نا کوئی انھیں جعلی طریقے سے بنا کر بیچتا رہے گا۔ایلن ایزل کا کہنا تھا کہ نوکریاں دینے والے ادارے ڈگریوں کو جانچنے کا کام صحیح طرح نہیں کر رہے ٗ اس وجہ سے یہ کام جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…