ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

معصوم زینب کے قتل کے بعد پورے قصور میں بینرز لگ گئے ،ان بینرز پر ایسا کیا لکھا ہوا ہے ؟حکومت اور پولیس میں کھلبلی مچ گئی

datetime 15  جنوری‬‮  2018 |

قصور (مانیٹرنگ ڈیسک) قصور میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی سات سالہ بچی ز ینب کے والد محمد امین نے کہا ہے ک زینب کے قتل میں ملوث اب تک کوئی ملزم نہیں پکڑا گیا ٗکیس میں پیش رفت نظر نہیں آرہی ہے۔میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے محمد امین نے کہا کہ پولیس

کی طرف سے یقین دہانی کرائی جارہی ہے کہ ملزم جلد پکڑ لیں گے۔مظاہروں کے درمیان گرفتار ہونیوالے بچوں کی مائیں ہمارے پاس آرہی ہیں۔زینب کے والد نے کہاکہ پولیس نے جن لوگوں کو پکڑا تھا ان پر تشدد کیا جارہا ہے ٗہمارا مطالبہ ہے کہ پولیس گرفتار افراد کے مقدمات ختم کرکے انہیں رہا کرے ٗزینب قتل پراحتجاج پرامن تھامگرپولیس نے فائرنگ کرکے اشتعال پیدا کیا۔دریں اثناء سانحہ قصور کو چھ دن ہوگئے، قاتل ابھی تک نہ پکڑا جاسکا، ٗ شہر میں جگہ جگہ ’’زینب کو انصاف دو ‘‘کے بینرز آویزاں کر دیئے گئے، معاملے پر بنائی گئی جے آئی ٹی بھی شواہد اکٹھے کرنے میں مصروف ہے تاہم کوئی کامیابی نہ مل سکی۔ زینب کو انصاف دو، قصور شہر کے مختلف مقامات پر بینرز لگ گئے ہیں گلی محلوں میں لگائے گئے بینر ز پر لکھاگیا ہے کہ ننھی پری کو انصاف نہ ملا، وہ درندہ کہاں ہے جس نے معصوم زینب کو حیوانیت کا نشانہ بنایا اور بے دردی سے قتل کیا، حکومت مستعفی ہو، اب ہم تمام واقعات کا حساب لیں گے ۔ سات سالہ بچی ز ینب کے والد محمد امین نے کہا ہے ک زینب کے قتل میں ملوث اب تک کوئی ملزم نہیں پکڑا گیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…