جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

وفاقی حکومت نے ترقیاتی منصوبوں پر اخراجات کم کر دیئے

datetime 14  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پلاننگ کمیشن کی جانب سے 12 جون کو پبلک سیکٹر پر مشتمل ترقیاتی منصوبوں (پی ایس ڈی پی) کے لیے صرف 3 کھرب 44 ارب روپے جاری ہوئے جس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت مالی سال 2018-2017 کا خسارہ محدود رکھنے کے لیے ترقیاتی منصوبوں پر اخراجات میں کمی لارہی ہے۔ واضح رہے کہ ترقیاتی اسکیموں کے لیے ایک ہزار ارب روپے سے زائد مختص ہیں

جبکہ حکومت نے اس کا صرف 34 اعشاریہ 4 فیصد خرچ کیا جو تقریباً 3 کھرب 44 ارب روپے بنتا ہے۔ یہ پڑھیں: ترقیاتی اسکیموں کیلئے صرف 35 فیصد فنڈز کا اجراء دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت نے گزشتہ برس پی ایس ڈی پی پر 8 سو ارب روپے مختص کیے تھے اور اسی عرصے میں 13 جنوری 2017 تک 300 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کے تحت استعمال میں لائے گئے تھے جو 37 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ ترقیاتی منصوبوں سے متعلق منظورشدہ طریقہ کارکے مطابق حکومت کو سال کی پہلی سہ ماہی میں کل رقم کا چالیس 40 فیصد تقریباً 400 ارب روپے جاری کرنے چاہیے تھے۔ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں حکومت نے 30 ارب روپے قانون سازوں کی سفارشات پر کمیونٹی ڈویلپمنٹ منصوبوں اور تقریباً 9 ارب روپے پرائم منسٹر یوتھ پروگرام پر خرچ کیے۔ یہ بھی پڑھیں: بیرونی، مالیاتی اکاؤنٹس پر دباؤ برقرار رہے گا، اسٹیٹ بینککمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت سڑکوں کی تعمیر، سیوریج اور پانی کا نظام بہتر بنانے سمیت دیگر پروجیکٹس پر کام جاری ہے۔پلاننگ کمیشن کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق وفاقی وزراء کو سال کی پہلی سہ ماہی میں 92 ارب جاری کیے جو کل رقم کا 29 فیصد بنتا ہے جبکہ کل تخمینہ 3 کھرب 21 ارب روپے ہے۔مزید پڑھیں: چین نے سی پیک کے تحت سڑکوں کے منصوبوں کی مالی امداد روک دیوفاقی حکومت کے زیرِانتظام قبائلی علاقے (فاٹا)، کشمیر اور گلگت

بلتستان کے لیے حکومت نے 71 ارب روپے میں سے 33 ارب روپے جاری کیے۔ رقم کی تقسیم کے منظور شدہ طریقہ کار کی رو سے حکومت موجودہ سال پہلی دو سہ ماہی میں 20 فیصد فنڈز جبکہ تیسری اور چوتھی سہ ماہی میں 30، 30 فیصد فنڈز جاری کرنے کی پابند ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…