پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

دنیا کے خطرناک ترین سیاحتی مقامات کون سے ہیں ،فہرست جاری،تاج محل بھی شامل

datetime 28  دسمبر‬‮  2017 |

واشنگٹن(آن لائن) امریکی ادارے فوڈرز نے سیاحوں کے لیے ایک گائیڈ بک شائع کی ہے جس میں ان سیاحتی مقامات کی فہرست مرتب کی گئی ہے جہاں آپ کو نہ جانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔محبت اور فن تعمیر کے شاہکار تاج محل کو تعمیر ہوئے 369 برس گزر چکے ہیں جس کی صفائی کا عمل کا آغاز اگلے برس یعنی 2018 کے اوائل میں شروع ہوگا، ایک خاص مٹی کے گارے سے تاج محل کی رگڑائی کی جائے گی

اور بعد ازاں اس کی دھلائی ہوگی۔اس سے قبل تاج محل کی صفائی کا معاملہ سطحی نوعیت کا ہوتا تھا لیکن اب تاج محل کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ مکمل صفائی میں تقریبا ایک سال درکار ہوگا، اس لیے اگر تاج محل آپ کی سیاحتی فہرست میں ہے تو کم ازکم ایک برس تک اپنے دورے کو ملتوی کردیں ورنہ تاج محل کی دھلائی میں آپ کی تصویر بھی دھندلی آئیں گی۔دنیا بھر میں گالا پاگوز اپنے تیوری اور تیکھے مزاج کی وجہ سے بہت مشہور ہے, جزیرہ ایکواڈور کا صوبہ گالا پاگوز آتش فشاں جزیرے پر قائم ہے اور وائلڈ لائف کے اعتبار سے لوگوں کی دلچسپی کا مرکز رہا ہے۔لیکن فوڈرز نے گالا پاگوز کے بارے میں انکشاف کیا ہے کہ اس جزیرے کا ماحولیاتی نظام بری طرح متاثر ہورہا ہے اس لیے یہاں جاتے ہوئے بھی احتیاط اختیار کریں۔پانی پر بسا اٹلی کا شہر وینس اور فن تعمیر کا شاہکار نیدر لینڈ کا دارالحکومت ایمسٹر ڈیم ان دنوں سیاحوں کے لiے موزوں جگہ نہیں ہے۔ان مقامات پر سیاحوں کی اتنی بڑی تعداد امنڈ آتی ہے کہ مقامی شہری کی پرسکون زندگی برباد ہو کر رہ جاتی ہے اس لیے کئی مقامات پر مقامی شہریوں اور سیاحوں کے مابین زبردست تلخ کلامی اور جھگڑا بھی ہوا ہے۔رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ اسی وجوہات کی بنا پر کچھ وقت کے لیے آپ ان مقامات کی سیاحت کا ارادہ ترک کردیں، اگر آپ اپنی چھٹیاں سکون اور پرکیف گزارنا چاہتے ہیں۔فوڈور کی رپورٹ کے مطابق سال بھر جنت نظیر مقام پہانگ گا پر سیاحوں کا تانتا

بندھا رہتا ہے اور اسی وجہ سے تھائی لینڈ کے بیشتر ساحل ماحولیاتی آلودگی کا شکار ہوئے ہیں۔انتظامیہ کو سیاحوں کی مد میں آنے والے سرمائے کی بہت فکر ہے اس لیے انہوں نے ساحلوں اور جزیروں کی آبی صفائی کی مہم کا آغاز کیا ہے، اس لیے آپ اپنی چھٹیوں کو انجوائے کرنے کے لیے تھائی لینڈ کے کسی دوسرے جزیرے کو منتخب کرلیں۔آپ کو حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ میانمار بھی ان خوبصورت مقامات کی فہرست میں شامل ہے جہاں سالانہ

لاکھوں سیاح آتے ہیں لیکن میانمار فوج کی جانب سے راکھائن کے علاقے میں مسلمانوں کی نسل کشی کے بعد دنیا بھر کے سیاحت کے دلدادہ افراد نے اس ملک کا رخ کرنے میں احتیاط کی ہے۔فوڈرز نے تجویز دی ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ کی چھوٹی چوٹیوں کو سر کرنے میں فی سیاح کا خرچہ تقریبا 25 ہزار ڈالر سے 45 ہزار ڈالر ہوتا ہے اور ان چوٹیوں کو سر کرنے کی کوشش میں رواں برس 6 سیاح اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔اس لیے رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ آپ سیاح بنے تاہم اپنی جان کے دشمن مت بنیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…