پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

ایران کے سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کے درمیان جاری رسہ کشی میں شدت آگئی

datetime 26  دسمبر‬‮  2017 |

تہران (این این آئی)ایران کے سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کے درمیان جاری رسہ کشی روز بہ روز شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ سابق صدر محمود احمدی نژاد نے جوڈیشل اتھارٹی کے سربراہ پر کرپشن کا الزام عاید کرتے ہوئے ان کی مبینہ بدعنوانی کے ثبوت منظر عام پر لانے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری طرف اعلیٰ عدلیہ نے سابق صدر کو ’مجنون‘ اور پاگل قرار دیتے ہوئے ان پر کڑی تنقید کی ہے۔ احمدی نژاد کی طرف سے جاری کردہ

بعض دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جوڈیشل کونسل کے چیئرمین صادق آملی لاریجانی، ان کے رشتہ داروں اور دیگر مصاحبوں نے سرکاری اور نجی املاک پر قبضے کیے اوراپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر رکھا ہے۔احمدی نژاد نے اپنی ویب سائیٹ پر بھی وہ ثبوت پوسٹ کیے ہیں اور ساتھ ہی لکھا کہ وہ صادق آملی لاریجانی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ لاریجانی، ان کے بھائیوں اور دیگر قریبی دوستوں نے عہدوں کے اثرو نفوذ کو استعمال کرتے ہوئے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ انہوں نے الزام عاید کیا کہ آملی لاریجانی کرپشن کے باعث اب اعلیٰ عدالتی کونسل کے سربراہ کے عہدے کے اہل نہیں رہے۔ ان کا مسلسل عہدے سے چمٹے رہنا آئین اور عدلیہ کی توہین ہے۔دوسری جانب عدلیہ کے ترجمان غلام حسین محسنی ایجی نے محمود احمدی نڑاد کے تمام الزامات بے بنیاد قرار دیتے ہوئے انہیں مسترد کردیا ہے۔ ایک پریس کانفرنس میں ایجی نے کہا کہ سابق صدر ہوش وخرد کھو بیٹھے ہیں۔ انہیں الزام تراشی کے بجائے اپنے دماغ کا معائنہ کرانا چاہیے۔ گذشتہ بدھ کو ایرانی جوڈیشل کونسل کے چیئرمین صادق آملی لاریجانی نے بھی محمود احمدی نڑاد کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ احمدی نڑاد منحرف ہوچکے ہیں اور وہ ملک میں ایک نیا فتنہ برپا کرنا چاہتے ہیں۔عدلیہ نے احمدی نژاد کے ایک سابق معاون حمید بقائی کو بدعنوانی کے الزامات کے تحت 63 سال قید کی سزا بھی سنائی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…