جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

لبنان کے وزیر اعظم کو کس اسلامی ملک نے استعفیٰ دینے پر مجبور کیا،امریکہ اخبار کا دھماکہ خیز انکشاف

datetime 26  دسمبر‬‮  2017 |

واشنگٹن(آن لائن)امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنانی وزیر اعظم سعد حریری کو سعودی عرب کے دورے کے دوران عہدے سے استعفیٰ دینے کے لیے مجبور کیا گیا۔نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سعد حریری، سعودی فرمانروا محمد بن سلمان کے ساتھ دن گزارنے کی امید لے کر ریاض آئے تھے، لیکن وہاں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ان سے بدسلوکی کی گئی اور وزارت عظمیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے لیے مجبور کیا گیا۔رپورٹ میں نام ظاہر کیے بغیر لبنانی اور مغربی عہدیداران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا

کہ سعد حریری کو، جو سعودی پاسپورٹ بھی رکھتے ہیں، غیر ملکی سفارتکاروں کی جانب سے لابنگ کے بعد رہا کیا گیا۔سعد حریری سے ان کا موبائل فون بھی لے لیا گیا اور سوائے ایک حفاظتی گارڈ کے تمام گارڈز کو بھی ان سے الگ کردیا گیا تھا، جبکہ یہ سب انہیں مستعفی ہونے کی پہلے سے لکھی ہوئی تقریر دیئے جانے سے قبل ہوا۔رپورٹ میں مغربی سفارتکاروں اور لبنانی عہدیداران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ سعودی حکام کا خیال تھا کہ سعد حریری کے استعفے سے ’حزب اللہ‘ مخالف مظاہرے پھوٹ پڑیں گے۔رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے سینئر عہدیدار ڈیوڈ ایم سیٹرفیلڈ نے ’لبنان کو غیر مستحکم‘ کرنے کے اس اقدام پر سعودی عرب کی سخت سرزنش کی۔واضح رہے کہ سعودی عرب کے قریبی سعد حریری نے 4 نومبر کو اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں نے اپنی زندگی کو ٹارگٹ کرنے کے لیے بنائے گئے پوشیدہ منصوبے کو محسوس کر لیا ہے۔‘سعد حریری کی جانب سے اپنے عہدے سے استعفے کے اعلان کے بعد لبنان میں سیاسی بحران شدت اختیار کرگیا تھا جبکہ حکام کی جانب سے سعودی عرب پر وزیراعظم کی حراست کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے تھے جہاں وہ مستعفی ہونے کے بعد دو ہفتوں تک رہے تھے۔تاہم سعد حریری نے سعودی عرب کی جانب سے حراست میں رکھنے کی افواہوں کو رد کر دیا تھا

اور فرانس کی دعوت پر پیرس کے دورے کے لیے 18 نومبر کو سعودی عرب چھوڑنے کا اعلان کیا۔سعد حریری اپنے دورہ فرانس کے بعد مصر اور قبرص میں رکے اور وہاں سے بیروت پہنچے اور ملک کے 74 یوم آزادی کے جشن کے موقع پر سامنے آئے اور میڈیا سے بات چیت کی۔بعد ازاں انہوں نے لبنانی صدر میشال عون کی درخواست پر اپنے استعفے کے فیصلے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…