منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

صحافی 60 لاکھ روپے کے سموسے،پکوڑے ڈکار گئے، وزارت اطلاعات ونشریات کا دعویٰ

datetime 23  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزارت اطلاعات و نشریات نے ایک سال میں صحافیوں پر60 لاکھ روپے مالیت کے سموسے ،پکوڑے اور چائے کی تواضع پر اڑا دیئے ہیں۔ اس بات کا انکشاف وزارت اطلاعات و نشریات کی دستاویزات میں ہوا ہے۔ دستاویزات کے مطابق (پی آئی ڈی) نے دعوی کیا ہے کہ2013 ءمیں انفارمیشن سنٹر میں700 پریس کانفرنس منعقد کی گئیں تھیں جن پر کل اخراجات 5.973 ملین روپے خرچ ہوئے ہیں،دستاویزات کے مطابق2.293 بلین روپے لائٹ ریفریشمنٹ جن میں سموسے،پکوڑے اور چائے پر جبکہ 3.680ملین روپے کے صحافیوں کو لنچ اور ڈنر سے تواضع کی گئی ہے ۔وزارت اطلاعات و نشریات نے یہ دعوی بھی کیا ہے پی آئی ڈی میں ہر ماہ 30 پریس کانفرنسیں ہوتی ہیں جبکہ 30 پریس بریفنگ کا اہتمام کیا جاتا ہے اور اس میں شریک ہر صحافی پر اوسطً7 ہزار روپے خرچ آتا ہے تاہم وزارت اطلاعات نے نہ تو صحافیوں کی کل تعداد کا ذکر کیا ہے اور نہ ہی60 لاکھ روپے کے سموسے کھانے والے صحافیوں کی معلومات اور نام افشاں کئے ہیں۔وزارت اطلاعات کے مطابق پی آئی ڈی ہر ماہ لاکھوں روپے ان کانفرنس پر خرچ کررہا ہے۔ وزارت خزانہ کے ایک اعلی افسر سے رابطہ کیا اور قواعد وضوابط کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ2006 کے آرڈر کے تحت وزارت اطلاعات کو قانوناً اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ ہر صحافی کو 30 روپے سے زائد کی ریفرشمنٹ پر خرچ نہ کرے جبکہ لنچ اور ڈنر کے لئے1200 روپے کی حد مقرر کی گئی ہے ۔

مزید پڑھئے:چند بالی ووڈاداکارائیں 30سال سے زائد عمرہونے کے باوجود شادی کا ارادہ نہیں رکھتیں

اس حوالے سے سیکرٹری اطلاعات محمد اعظم اور پی آئی او راﺅ تحسین سے رابطہ کر کے ان کا موقف حاصل کرنے کی کوشش کی ہے تاہم دونوں افسران نے اس بھاری کرپشن پر چپ سادھ لی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…