جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

پانچ بلاگرز کے خلاف سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد شائع کرنے کے شواہد ،ایف آئی اے کے حیرت انگیز انکشافات، بڑا اعتراف کرلیا

datetime 23  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام ااباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ایف آئی اے نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے پانچ بلاگرز کے خلاف سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد شائع کرنے کے شواہد نہ ملنے کا اعتراف کر لیا ، جن پانچ افراد پر انٹرنیٹ پر گستاخانہ مواد شائع کرنے کا الزام لگایا گیا ان کے خلاف ثبوت نہیں ملے۔ایف آئی اے نے بیرون ملک فرار ہونے والے 4 ملزمان کو واپس لانے کے لیے بھی انٹرپول سے رابطہ کرنے سے متعلق عدالت کو آگاہ کیا ، عدالت نے گستا خانہ مواد

وزیر اعظم کو بھجونے کا حکم دے دیا ،سلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے انٹرنیٹ پر گستاخانہ مواد کے خلاف فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق کیس کی سماعت کی۔گزشتہ روز جمعہ کواسلام آباد ہائیکورت میں انٹرنیٹ پر گستاخانہ مواد کے خلاف فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ایف آئی اے نے اعتراف کیا کہ گستاخانہ مواد کی اشاعت کرنے سے متعلق جن 5 افراد پر الزام لگایا گیا ان کے خلاف ثبوت نہیں ملے۔اسلام آباد ہائیکورٹ، گستا خانہ مواد وزیر اعظم کو بھجونے کا حکم ایف آئی اے کے اعتراف پر جسٹس شوکت صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ جن کے خلاف شواہد نہیں ان کے خلاف کارروائی نہیں ہونی چاہیے۔جسٹس شوکت صدیقی کا کہنا تھا کہ توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانے والا دوہرے جرم کا مرتکب ہوتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عدالت فیصلہ کرے گی کہ الزام لگانے والا جھوٹا ہے یا شواہد ناکافی ہیں۔س موقع پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے صحافیوں سے سوال کیا کہ بتائیں جھوٹی خبر دینے کی کیا سزا ہے۔ ایف آئی حکام نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ چار گرفتار ملزمان سے تفتیش مکمل کرکے ٹرائل کورٹ میں چالان پیش کردیا ۔ ایف آئی اے نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے پانچ بلاگرز کے خلاف سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد شائع کرنے کے شواہد نہ ملنے کا اعتراف کر لیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…