جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان میں پولیس ہیڈکوارٹرز پر خود کش حملہ،افسران سمیت6 اہلکار ہلاک،5زخمی ،طالبان نے ذمہ داری قبول کرلی

datetime 22  دسمبر‬‮  2017 |

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان میں پولیس ہیڈکوارٹرز پر خودکش کاربم دھماکے میں پولیس افسران سمیت 6 اہلکار ہلاک اور5زخمی ہوگئے ،طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی،ادھر مشرقی صوبہ ننگرہار میں امریکی ڈرون حملے میں 3طالبان جنگجو ہلاک ہوگئے جبکہ سیکورٹی فورسز کے آپریشنز میں 6داعشی جنگجوؤں سمیت 50شدت پسند ہلاک اور 19دیگر زخمی ہوگئے۔جمعہ کو افغان میڈیا کے مطابق قندھار کے ضلع میوند میں واقع

پولیس ہیڈکوارٹرز سے خودکش حملہ آور نے بارود سے بھر گاڑی ٹکرادی۔ ضلعی پولیس چیف محمد سلطان کا کہنا ہے کہ حملہ آور کو پہلی سیکورٹی چیک پوسٹ پر روکنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ بچ نکلا اور دوسری چوکی پر اہلکاروں نے اسے روکا تو اس نے تیز رفتار گاڑی عمارت سے ٹکرادی، حملے میں کم از کم 3 ہزار کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا جو زوردار دھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں پولیس افسران سمیت6اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جب کہ 5زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔پولیس چیف نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ خودکش حملہ اس قدر شدید تھا کہ ہیڈکوارٹرز کی عمارت مکمل طورپر تباہ ہوگئی جب کہ متصل عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا،حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے مقامی تھے جو عرصہ دراز سے ہیڈ کوارٹرز میں ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ حملے کے بعد علاقے میں سرکاری تنصیبات اور پولیس تھانوں کی سیکورٹی مزید سخت کرتے ہوئے اضافی پولیس اہلکار تعینات کردیے گئے ہیں۔دوسری جانب طالبان نے واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مزید حملوں کی دھمکی دی ہے۔ادھر مشرقی صوبہ ننگرہار میں امریکی ڈرون حملے میں 3طالبان جنگجو ہلاک ہوگئے ۔حکام کا کہنا ہے کہ ڈرون حملہ ضلع غنی خیل میں کیا گیا ۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فضائی حملے میں 3طالبان جنگجو مارے گئے جبکہ انکا اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ ہوگیا۔

دوسری جانب وزارت دفاع کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 24گھنٹوں میں افغان سیکورٹی فورسز کے آپریشنز میں 6داعشی جنگجوؤں سمیت 50شدت پسند ہلاک اور 19دیگر زخمی ہوگئے ۔سیکورٹی فورسز نے ملک کے مختلف حصوں میں آپریشن کیے جن میں فضائی اور آرٹلری کی مدد بھی حاصل تھی ۔بیان کے مطابق آپریشن صوبہ ننگرہار،غزنی ،پکتیا،قندھار،ارزگان،میدان واردک،فریاب،ہرات اور ہلمندمیں کیے گئے ۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…