جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بیرون ملک میں کتنے پاکستانی قید ہیں؟ تعداد جان کر آپ حیران رہ جائیں گے

datetime 21  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آبا د(مانیٹرنگ ڈیسک) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اوور سیز پاکستانیز میں بیرون ملک دس ہزار پاکستانیوں کے قید میں ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے۔سینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ اگر کسی غریب مزدور کے پاس وکیل کرنے کے پیسے نہیں تو کیا ان کے لئے کوئی ویلفیئر سکیم بنائی گئی ہے ؟ اگر بیرون ملک پاکستانیوں کو ویلفیئر نہیں کر سکتے تو او پی ایف کا کوئی فائدہ نہیں ہے ، ان کے لئے ویلفیئر سکیم ہونی چاہیئے اور ان کو وکیلوں کی سہولت میسر کی جانی چاہیئے،

کمیٹی نے حطار میں ورکر ویلفیئر بورڈ خیبر پختونخوا کے فلیٹس پر قبضوں کے معاملے پر چار ہفتوں میں رپورٹ طلب کر لی جبکہ انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ کا ترمیمی بل 2017 بھی منظور کر لیا ، ترمیم کے بعد اگر کوئی آدمی کسی بھی اسٹیبلشمنٹ میں مستقل قسم کا کام تین مہینے کے اندر مکمل کر لے وہ ورک مین کی تعریف کے اندر آجائے گا۔جمعرات کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اوور سیز پاکستانیز کا اجلاس سینیٹر باز محمد خان کی صدارت میں ہوا ۔ اجلاس میں سعودی عرب کی جیل میں قید پاکستانی شہری کے مسئلے پر غور کیا گیا ۔ سپیشل سیکرٹری خارجہ شاہ جمال نے کمیٹی کو بتایا کہ اسلام نواز نامی شہری نے کار چلاتے ہوئے کسی کو ٹکر ماری تھی ۔ اس طرح کے کیسز کی جو فہرست وزیر اعظم کے پاس گئی ہے اس میں اسلام نواز کا نام بھی شامل ہے ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا 3لاکھ بہت بڑی رقم ہے شائد وہ ادا نہ کر سکے پانچ سال سے وہ جیل ہے اگر پیسے نہیں دے گا تو ساری عمر جیل میں رہے گا۔ سپیشل سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ ہم نے ایک پالیسی بنائی ہے جس کی مختلف سطح پر منظوری ہو چکی ہے ۔ اس کے بعد ہمارے پاس اس حوالے سے مناسب پالیسی ہو گی۔ اس وقت دس ہزار پاکستانی بیرون ملک جیلوں میں ہیں جن میں سے 3ہزار سعودی عرب کی جیلوں میں ہیں ۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ اگر کسی غریب مزدور کے پاس وکیل کرنے کے پیسے نہیں تو کیا ان کے لئے کوئی ویلفیئر سکیم بنائی گئی ہے

اگر بیرون ملک پاکستانیوں کو ویلفیئر نہیں کر سکتے تو او پی ایف کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ ان کے لئے ویلفیئر سکیم ہونی چاہیئے اور ان کو وکیلوں کی سہولت میسر کی جانی چاہیئے، وکیلوں کا پینل ہونا چاہئے اس موقع پر سیکرٹری اوور سیز پاکستانیز نے کمیٹی کو بتایا کہ بیرون ملک پاکستانی کے لئے وفات یا معذوری کی صورت میں سٹیٹ لائف کی دس لاکھ کی انشورنس ہوتی ہے جبکہ اسکے علاوہ او پی ایف بھی 4لاکھ روپے دیتا ہے ۔ہم انہیں اکیلا نہیں چھوڑتے ۔ اس موقع پر اجلاس میں سینیٹر میاں عتیق شیخ کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر بھی بحث کی گئی ۔

میاں عتیق شیخ نے کہا کہ میرا سوال تھا کہ ورکر ویلفیئر بورڈ میں کالونیاں بن جاتی ہیں لیکن پھر لوگ ان پر قابض ہو جاتے ہیں ، اور پھر وہ قابضین ان فلیٹس کو آگے کرائے پر بھی دے دیتے ہیں ۔ اس موقع پر سیکر ٹری اوورسیز پاکستانیز نے کہا کہ یہ حطار کے حوالے سے ہے اس کو خیبر پختونخوا ہی چلاتا ہے کچھ فلیٹس ایسے تھے جن کو دوبارہ کرائے پر دیا گیا تھا ۔اس موقع پر سیکرٹری ورکر ویلفیئر بورڈ خیبر پختونخوا کے سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ حطار میں 1180کوارٹر ہیں ۔ اس حوالے سے انکوائری کمیٹی اپنی تحقیقات کر رہی ہے کمیٹی کاایک رکن عمرے پر گیا ہو ا ہے۔

اگلے ہفتے تک اس کی رپورٹ آجائے گی ۔ سینیٹر میاں عتیق شیخ نے کہا کہ یہ فلیٹس فیکٹری کے نام پر الاٹ ہو تے ہیں ۔ خیبر پختونخوا کا پورا ڈیپارٹمنٹ ملا ہو ا ہے آج وہاں قابضین ڈیپارٹمنٹ سے مل کر بیٹھ گئے ہیں ۔ کمیٹی نے اس مسئلے پر ورکر ویلفیئر بورڈ خیبر پختونخوا سے چار ہفتوں میں رپورٹ طلب کر لی ۔ اجلاس میں سینیٹر اعظم خان سواتی کی جانب سے پیش کئے گئے انڈسٹریل ریلیشنز کے ترمیمی بل 2017پر بھی بحث کی گئی اور بحث کے بعد اسے منظور کر لیا گیا۔ ترمیم میں ورکر کی تعریف واضح کی گئی ہے ۔اس ترمیم کے بعد اگر کوئی آدمی کسی بھی اسٹیبلشمنٹ میں مستقل قسم کا کام تین مہینے کے اندر مکمل کر لے وہ ورک مین کی تعریف کے اندر آجائے گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…