جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بلاول ہاﺅس میں ہنگامہ،بھتہ خوری اور زمینوں پر قبضے کے تنازعے پر بات بڑھ گئی،اعلیٰ عہدیدار برطرف

datetime 21  دسمبر‬‮  2017 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) بلاول ہاؤس کی سیکیورٹی انچارج آپس میں لڑ پڑے، جس کے باعث جانثاران بینظیربھٹو کے انچارج بابرسندھو کو فارغ کردیا گیا ہے۔ جانثاران بے نظیر بھٹوفورس کے کارکنوں کی جانب سے جمعرات کو مظاہرہ بھی کیاگیا۔ذرائع کے مطابق دونوں افسران میں لڑائی بھتہ خوری اور زمینوں پر قبضے کے الزامات کے باعث ہوئی، جس کے بعد بابر سندھو کو فارغ کردیا گیا۔جانثاران بینظیربھٹو کے انچارج کو عہدے سے ہٹائے جانے

کے خلاف کارکنان کی جانب سے بلاول ہاؤس کے باہر مظاہرہ بھی کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بلاول ہاؤس کے سیکورٹی انچارج کرنل بابر کی درخواست پر جانثاران بے نظیر بھٹوفورس کے صدر بابر سندھو کو برطرف کردیا گیا جس کے خلاف جان نثاران بھٹو فورس کے کارکنوں کا بلاول ہاؤس کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیاگیا، شدید نعرے بازی، مشتعل کارکنوں نے یہ کرنل جنرل نہ منظور کے نعرے بھی لگائے۔ اس موقع پر بابر سندھو نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلاؤل ہاؤس کے سیکورٹی انچارج کرنل بابر آمر ہے اور پیپلزپارٹی میں بھی آمریت پیداکرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ بابر سندھو نے الزام عائد کیا کہ ان کو نکلوانے میں کرنل بابر کا ہاتھ ہے، جس کے خلاف کارکنان احتجاج جاری رکھیں۔ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی شعبہ خواتین کراچی ڈویژن کی صدر شاہدہ رحمانی کے خلاف بھی بابر سندھو لابنگ کررہے تھے،یہی نہیں شاہدہ رحمانی کے خلاف باقاعدہ جانثاران بینظیربھٹو کے انچارج نے ایس ایم ایس مہم شروع کررکھی تھی، جس کے خلاف پی پی پی خواتین کی صدر نے اعلی قیادت کو آگاہ کیا تو بابر سندھو کے خلاف گلستان جوہرمیں پلاٹ کا تنازع سامنے آگیا۔ذرائع نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ بلاول ہاؤس کے سیکیورٹی انچارج کرنل بابر پہلے سے ہی بابر سندھو کے خلاف تھے ، تاہم انہوں نے موقع ملتے ہی بابر سندھو کو فارغ کرادیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…