جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

آزاد عدلیہ آزاد

datetime 20  دسمبر‬‮  2017 |

جب پاکستان میں ادارے آزاد،مضبوط،خودمختار اور غیرجانبدار ہونے کی نوید سُنائی دینے لگے ۔حالیہ سنائے گئے بڑے فیصلوں کی بدولت عدلیہ ملک کے مضبوط ترین ادارے کی حیثیت سے اُبھر رہی ہو تو ایسے پس منظر میں کوئی ادارہ اچانک اپنے اختیارات سے تجاوزکرے تو غیر معمولی تنقید تو ہوگی۔سپریم کورٹ میں30,000 ہزار سے زائد کیسوں کے فیصلے التوا کا شکار نہ ہوتے اور چیف جسٹس عوامی مسائل سُننے کیلئے سڑکوں پر ہوتے تو شاید

اِسے قابل قدر اقدام قرار دے کر ہر سطح پر سراہا جا رہا ہوتا مگر اپنے فرائض منصبی سے بری الذمہ ہو کر چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کا لاہور میو ہسپتال کا اچانک دورہ اور ہسپتال میں موجود سہولیات کا تنقیدی جائزہ ہی عوام میں بحث و مباحثہ کے متن کا سبب بنا ہے۔ردعمل کے طور پر عدلیہ کی بالادستی کے محافظ عزت مآب چیف جسٹس صاحب کا عوام کے کئی سوالات کی زد میں آنا شاید ایک فطری عمل ہوسکتا تھا مگرسوشل میڈیا پر عوام پھر بھی عدلیہ کے احترام کا علم بلندتو کئے ہوئے ہے مگر عوام کے رحجان سے اِن سوالات کا تاثر دیکھائی دے رہا ہے کہ کیا عدلیہ دوسرے اداروں کے کاموں میں مداخلت کر سکتی ہے؟اور کاروائیوں کا حصہ بن سکتی ہے؟ انتظامیہ کو ہدایات جاری کر سکتی ہے ؟کیا اس اقدام کی کوئی آئینی حیثیت ہےَ؟کیا ایسے اقدام سے جمہوریت کو فروغ ملے گا؟کیا ایسی مثالیں سنہرے الفاظ میں تاریخ کا حصہ بنیں گی؟ایک نہیں کئی سوالات۔۔۔۔۔دعا ہے کہ جمہوری نظام میں عدلیہ، مقننہ اور پارلیمنٹ اپنی اپنی حدود میں کام کرتی رہیں تا کہ پاکستان کادنیا میں کھویے ہوئے تشخص کی بحالی کا عمل جاری رہ سکے۔‎

(تحریر:آصف علی رانجھا)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…