پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

بھارت باز نہ آیا تو پھر۔۔ چینی جنرل کا ایسا اعلان کہ بھارت لرز کر رہ گیا

datetime 18  دسمبر‬‮  2017 |

بیجنگ (آئی این پی ) بھارت نے اگر سبق نہ سیکھا تو اس کے اقدامات سے با لآخر چین بھارت تعلقات کو نقصان پہنچے گا ،بھارت کا شکریہ کہ اس نے حالیہ ڈوکلام تنازعہ کے بعد مغربی حصے میں چین کو اپنی حکمت عملی بہتر بنانے پر مجبور کر دیا ہے ، چین کے مغربی بارڈر پر کئی کمزوریاں تھیں لیکن ڈوکلام تنازعے کے بعد چین نے ان پر قابو پالیا ہے کیونکہ ڈوکلام تنازعہ کی اصل وجہ

بھارتی اقدامات ہیں ۔ان خیالات کا اظہار چینی اکیڈیمی آف ملٹری سائنسز کے میجرجنرل پینگ گوانگ کیان نے یہاں سالانہ گلوبل ٹائمز فورم میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اس کیلئے بھارت کا شکرگزار ہونا چاہئے۔پیپلز لبریشن آرمی کی اکیڈیمی آف ملٹری سائنسز کے ریسرچ فیلو زائو زیائو زو کا کہنا ہے کہ بھارت تبت کو چین کے بفرزون کے طورپر لیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ انڈیا نے اس وقت زبردست رد عمل کا اظہار کیا جب چین نے تبت میں ریلوے اور ہائی ویز کی تعمیر کا آغاز کیا ۔انہوں نے کہا کہ بھارت کبھی بھی سڑکوں کی تعمیر کو ایک اچھے موقع کے طورپر نہیں لیتا اور وہ رابطوں کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا ، بھارت صرف اپنے مفادات کے بارے میں سوچتا ہے لیکن اگر بھارت نے حالات سے سبق نہ سیکھا تو اس کے یہ اقدامات آخر کار دونوں ملکوں کے تعلقات کو نقصان پہنچائیں گے۔جواہر لال نہرو یونیورسٹی چینی مرکز اور جنوب مشرقی ایشین سٹیڈیز کے پروفیسر بالی رام دیپک نے ایک درمیانہ موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین اور بھارت میں مقابلہ اور تعاون جاری ہے کہ دونوں ممالک آپس میں دوست ہیں نہ دشمن ،ڈوکلام تنازعہ کے پس منظر میں بالی رام دیپک نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ چین بھارت کو کمتر سمجھتا ہے اور بھارت چین کو سنجیدگی سے نہیں لیتا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…