ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

ایاز صادق نے کس سازش سے آگاہ کیا؟ وزیراعظم مدت پوری نہیں کرسکا ،اسمبلیاں تو بڑی کمزور ہوتی ہیں، کیپٹن(ر) صفدر کے انکشافات

datetime 14  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیپٹن (ر) صفدر کی ضمانت منسوخی پر نیب کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر سماعت کے بعد میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کیپٹن(ر) صفدر نے کہا کہ ہم قانون بناتے ہیں اور اس کا احترام بھی کرتے ہیں، اور اسی لئے ہائی کورٹ میں عدالتوں کے احترام میں پیش ہورہا ہوں۔کیپٹن صفدر نے کہا کہ اٹھائیس جولائی کے فیصلہ نے مدت پوری کرتی حکومت کو ناکام بنانے کی کوشش کی ٗ

جسے اسپیکر قومی اسمبلی نے اپنی دانشمندی کے ساتھ ناکام بنایا۔انہوں نے کہا کہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں تو بہتر ہے۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی پر کوئی بھی وار ہوا تو بوجھ ریاست اٹھائے گی۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں گی تو کیپٹن (ر) محمد صفدر نے جواب دیا کہ جب وزیراعظم مدت پوری نہیں کر پایا تو اسمبلیاں تو بیچاری بہت کمزور ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر کو بھی خدشہ ہے کہ اسمبلیاں کسی سازش کا شکار پو سکتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ہر بات اپنے یمپائر سے پوچھتے ہیں ٗانہوں نے کہا کہ دسمبر کا مہینہ ہے، ہمیں سقوط ڈھاکہ سے سبق سیکھنا چاہئے ۔قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیپٹن (ر) صفدر کی ضمانت منسوخی پر نیب کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیپٹن صفدر کی ضمانت منسوخی کے خلاف نیب کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل ڈویڑن بینچ نے سماعت کی۔دورانِ سماعت نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر نے عدالت سے استدعا کی کہ کیپٹن (ر) صفدر کے ضمانتی مچلکے منسوخ کرکے انہیں اڈیالہ جیل بھجوایا جائے، جب ان کی گرفتاری عمل میں آچکی تو اس کے بعد انہیں رہائی نہیں دی جاسکتی تھی بلکہ ڈویڑن بینچ ہی انہیں رہا کرسکتا تھا۔

اس موقع پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا احتساب عدالت نے وارنٹ حاضری یقینی بنانے کیلئے جاری کیے تھے؟ جس پر کیپٹن (ر) صفدر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وارنٹ جاری کرنے کا مقصد حاضری یقینی بنانا تھا ٗکیپٹن (ر) صفدر ہر پیشی پر حاضر ہو رہے ہیں اس لیے ان کی ضمانت منسوخی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے پوچھا کہ کیا کیپٹن (ر) صفدر نے جو جرائم کیے ہیں ان میں ملزم کو گرفتار کرنا ضروری ہے، جس پر سردار مظفر نے بتایا کہ یہ تمام جرائم قابلِ گرفت ہیں جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ کیا آپ نے تمام ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔بعد ازاں ڈویژن بینچ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعدکیپٹن (ر) صفدر کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…