پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

ڈالر قابو میں آگیا،روپے کی قدر مستحکم،آنیوالے دنو ں میں کیا کچھ ہونیوالا ہے ،کرنسی ڈیلرز کی ہوش اڑا دینے والی پیشگوئی

datetime 13  دسمبر‬‮  2017 |

کراچی (آن لائن)مسلسل 4 روز تک ڈالر کی اڑان کے بعد آخر کار اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی مداخلت کے بعد روپے کی قدر مستحکم ہوگئی۔واضح رہے کہ گزشتہ چار کاروباری دنوں میں روپے کی قدر میں 4.7 فیصد کمی واقع ہوئی تھی۔اوپن مارکیٹ کے کرنسی ڈیلر کا کہنا تھا کہ یہ استحکام وقتی ہے اور مارکیٹ مزید اتار چڑھا دیکھے گی، کرنسی ڈیلرز کے مطابق انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی زیادہ سے زیادہ قیمت 111 روپے رہی

جبکہ بینکس میں ڈالر کی قیمت 110 روپے 25 سے 50 پیسے کے درمیان رہی۔تاہم اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق ڈالر کی قیمت خرید 110 روپے 41 پیسے جبکہ قیمت فروخت 110 روپے 61 پیسے رہی۔کرنسی ڈیلرز کا کہنا تھا کہ تین دن کے غیر مستحکم اتار چڑھا کے بعد اسٹیٹ بینک کی مداخلت واضح نظر آئی۔کرنسی ڈیلر کا کہنا تھا کہ دو بڑے بینکس، انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی فروخت میں مصروف ہیں جس کی وجہ سے اس کی قیمت 110 روپے 50 پیسے سے بھی کم ہوگئی ہے۔تاہم ٹریڈنگ کے دوران ان بینکوں کو اطلاع موصول ہوگئی تھی کہ اسٹیٹ بینک وہاں ڈالر کی قیمت کی نگرانی کے لیے موجود ہے تاکہ وہ 110 روپے 50 پیسے کی حد عبور نہ کر سکے۔انہوں نے کہا کہ درآمد کنندگان کی جانب سے ڈالر کو خریدنے میں جلدی دکھائی گئی لیکن یہ ایک خوف زدہ صورتحال نہیں تھی کیونکہ ڈالر گزشتہ روز کی قیمت پر ہی فروخت ہورہا تھا۔ٹریس مارک کمپنی کے ایک اہلکار ایمان خان نے کہا کہ مارکیٹ میں غیر مستحکم ہے لیکن یہ افراتفری کے لیے نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 110روپے 50 پیسے سے زائد میں فروخت نہیں ہوا، درآمد کنندگان کی جانب سے بے حد دبا ہے تاہم 2 ارب 50 کروڑ ڈالر کی حالیہ آمدنی اس صورتحال پر قابو پالے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…