ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

رانا ثنا اللہ کو استعفیٰ دینا چاہئے یا نہیں، کیا وہ اپنے حلقے سے الیکشن جیت جائیں گے؟صوبائی وزیر قانون کے حلقے کے عوام نے سروے کیلئے آنیوالی میڈیا ٹیم کو کیا جواب دیا؟جان کر آپ بھی دنگ رہ جائینگے

datetime 14  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)رانا ثنا اللہ کے حلقے میں نجی ٹی وی دنیا نیوز کے معروف اینکر و کالم نگار حبیب اکرم رانا ثنا اللہ کے استعفے سے متعلق لوگوں کی رائے جاننے کیلئے ایک سروے کرنے پہنچے تو اس وقت وہ شدید حیران ہوئے جب رانا ثنا اللہ کے حلقے کے عوام نے آئندہ الیکشن میں بھی منتخب کرنے کا اعلان کیا، حبیب اکرم نے لوگوں سے صرف ایک ہی سوال پوچھا کہ اس وقت

رانا ثنا اللہ پر استعفے کے حوالے سے شدید پریشر ہے کیا انہیں استعفیٰ دے دینا چاہئے اور ان کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے۔ حیرت انگیز طور پر 100فیصدمیں سے صرف ایک فیصد نے رانا ثنا اللہ کے استعفیٰ کی مانگ کی جبکہ باقی 99فیصد رانا ثنا اللہ کے حق میں تھے ۔ حلقے کے عوام نے رانا ثنا اللہ کو آئندہ انتخابات میں بھی منتخب کرنے کا اعلان کیا۔ ایک شخص کا کہنا تھا کہ رانا ثنا اللہ کو پیر سیالوی کے سامنے پیش نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہی استعفیٰ دینا چاہئے، لفظوں کے ہیر پھیر کرنے سے کوئی کافر نہیں ہو جاتا ۔ ایک اور شخص کا کہنا تھا کہ رانا ثنا اللہ نے جب ٹیلی ویژن پر آکر ببانگ دہل اعلان کیا ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور رسول کریمؐ کی ختم نبوت پر یقین اور ایمان رکھتے ہیں تو پھر ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کرنا صحیح نہیں۔ واضح رہے کہ حبیب اکرم نے سروےکے دوران رپورٹ میں کسی قسم کی ایڈیٹنگ سے گریز کا بھی بتایا ان کا کہنا تھا کہ وہ اس سروے کی ایڈیٹنگ نہیں کرینگے اور نہ ہی منتخب افراد سے سوال پوچھیں گے بلکہ راہ چلتے ہوئے وہ کسی بھی شخص سے سوالات کرینگے اور رپورٹ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حبیب اکرم نے راہ چلتے ہوئے مختلف افراد سے سوالات کئے۔ حبیب اکرم کا کہنا تھا کہ میڈیا پر رانا ثنا اللہ کے استعفیٰ سے متعلق بڑا شور مچا ہوا ہے جبکہ ان کے حلقے میں تو صورتحال ہی تبدیل نظر آتی ہے ۔ حلقہ کے عوام رانا ثنا اللہ کے حق میں اور ان کی محبت میں گرفتار ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…