ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

معروف شاعرہ عیاش وڈیرے کی ہوس کا شکار بن گئی کمالیہ کا بااثر جاگیرداراپنے ڈیرے پر کتنے ماہ شیطانی کھیل کھیلتا رہا

datetime 11  دسمبر‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عیاش وڈیرےنے فرضی نکاح کی آڑ میں یتیم و بے سہارا لڑکی کی عزت تار تار کر دی، کئی ماہ ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد دھکے مار کر گھر سے نکال دیا، ذکیہ بتول شاعرہ اور کئی ادبی تنظیموں کی طرف سے ایوارڈ بھی وصول کر چکی ہے، پولیس با اثر عیاش وڈیرے کی پشت بان بن گئی۔ پاکستان کے معروف اخبار روزنامہ خبریں کی رپورٹ کے مطابق کمالیہ کے

نواحی موجع چوکی چدھڑ کی رہائشی نوجوان لڑکی ذکیہ بتول عرف عمارہ ناز جو کہ شاعرہ بھی ہے جن کا ایک شعری مجموعہ’صرف تمہارے لئے‘کے نام سے شائع ہو چکا ہے جس پر اسے ادبی تنظیموں کی طرف سے ایوارڈز سے بھی نوازا گیا ہے کی شہرت ہی اس کی دشمن بن گئی ۔ علاقہ تحصیل کمالیہ کے ایک عیاش وڈیرے جاگیردار مرید عباس خان کے کانوں تک جب ذکیہ بتول کی شہرت پہنچی تو اس نے اپنے جال میں پھنسا کر ہوس کا نشانہ بننے کی منصوہ بندی شروع کر دی۔ مذکورہ وڈیرے نے مختلف خواتین اور دیگر ذرائع سے اسے شادی کے پیغامات بھیجنا شروع کر دئیے ۔ ذکیہ بتول کے والد ریٹائرڈ سکول ٹیچر تھے جن کے انتقال کے بعد وہ اپنی ضعیف والدہ کے ساتھ رہائش پذیر تھی ۔ حالات کی ستائی اور عزت کی ماری یہ لڑکی عیاش وڈیرے کی چکنی چوپڑی باتوں میں آکر اس سے شادی پر رضامند ہو گئی۔ عیاش وڈیرے نے لڑکی کو اعتماد میں لینے کے بعد اس بات پر بھی آمادہ کر لیا کہ وہ اس شادی کو فی الحال خفیہ رکھنا چاہتا ہے اور مناسب وقت پر دنیا کے سامنے ظاہر کرے گا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ پہلے سے شادی شدہ ہے اور یہ شادی وہ اپنی جائیداد کا وارث پیدا کرنے کیلئے کرنا چاہتا ہے کیونکہ پہلی شادی سے اس کے ہاں صرف دو لڑکیاں ہیں یوں اس نے سہارے کی متلاشی ذکیہ بتو کو شیشے میں اتار کر خفیہ نکاح پر آمادہ کر لیا۔ یہ تقریب نکاح اس نے اپنے

ایک دوست کے مکان پر منعقد کی جس میں اس کے پانچ بدقماش دوست شریک ہوئے۔ کرائے ایک ایک مولوی سے ایجاب و قبول و نکاح کی فرضی کارروائی کے بعد اسے اپنی ملکیتی مکان پر لے جا کر عرصہ کئی ماہ تک ہوس کا نشانہ بناتا رہا اور بعد ازاں ہوس کی آگ ٹھنڈی ہونے پر اسے دھکے دیکر وہاں سے نکال دیا۔ مزید برآں اپنے ساتھ گزرنے والی قیامت کا کسی سے تذکرہ کرنے کی صورت میں

لڑکی کو عبرتناک انجام کی دھمکیاں دیں۔ ذکیہ بتول نے جب اپنے ساتھ ہونے والے دھوکے اور عزت لوٹنے والے کے خلاف مقامی تھانے میں داد رسی کیلئے کوشش کی تو مقامی پولیس جو کہ بااثر وڈیرے کی پشت بان تھی نے ذکیہ کو دھکے دے کر تھانے سے بھی باہر نکال دیا۔ ذکیہ بتول نے بالآخر میڈیا کے ذریعے چیف جسٹس آف پاکستان، خادم اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب سے فوری انصاف

کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ فریب اور فراڈ کے ذریعے سنت رسول نکاح کو مذاق بنانے اور ایک فرضی نکاح کی آڑ میں اس کی عزت سے کھیلنے والے عیاش وڈیرے کو فی الفور عبرتناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی ہوس پرست وڈیرا کسی کی بیٹی کی زندگی تباہ کرنے کی جسارت نہ کر سکے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…