منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

معروف شاعرہ عیاش وڈیرے کی ہوس کا شکار بن گئی کمالیہ کا بااثر جاگیرداراپنے ڈیرے پر کتنے ماہ شیطانی کھیل کھیلتا رہا

datetime 11  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عیاش وڈیرےنے فرضی نکاح کی آڑ میں یتیم و بے سہارا لڑکی کی عزت تار تار کر دی، کئی ماہ ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد دھکے مار کر گھر سے نکال دیا، ذکیہ بتول شاعرہ اور کئی ادبی تنظیموں کی طرف سے ایوارڈ بھی وصول کر چکی ہے، پولیس با اثر عیاش وڈیرے کی پشت بان بن گئی۔ پاکستان کے معروف اخبار روزنامہ خبریں کی رپورٹ کے مطابق کمالیہ کے

نواحی موجع چوکی چدھڑ کی رہائشی نوجوان لڑکی ذکیہ بتول عرف عمارہ ناز جو کہ شاعرہ بھی ہے جن کا ایک شعری مجموعہ’صرف تمہارے لئے‘کے نام سے شائع ہو چکا ہے جس پر اسے ادبی تنظیموں کی طرف سے ایوارڈز سے بھی نوازا گیا ہے کی شہرت ہی اس کی دشمن بن گئی ۔ علاقہ تحصیل کمالیہ کے ایک عیاش وڈیرے جاگیردار مرید عباس خان کے کانوں تک جب ذکیہ بتول کی شہرت پہنچی تو اس نے اپنے جال میں پھنسا کر ہوس کا نشانہ بننے کی منصوہ بندی شروع کر دی۔ مذکورہ وڈیرے نے مختلف خواتین اور دیگر ذرائع سے اسے شادی کے پیغامات بھیجنا شروع کر دئیے ۔ ذکیہ بتول کے والد ریٹائرڈ سکول ٹیچر تھے جن کے انتقال کے بعد وہ اپنی ضعیف والدہ کے ساتھ رہائش پذیر تھی ۔ حالات کی ستائی اور عزت کی ماری یہ لڑکی عیاش وڈیرے کی چکنی چوپڑی باتوں میں آکر اس سے شادی پر رضامند ہو گئی۔ عیاش وڈیرے نے لڑکی کو اعتماد میں لینے کے بعد اس بات پر بھی آمادہ کر لیا کہ وہ اس شادی کو فی الحال خفیہ رکھنا چاہتا ہے اور مناسب وقت پر دنیا کے سامنے ظاہر کرے گا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ پہلے سے شادی شدہ ہے اور یہ شادی وہ اپنی جائیداد کا وارث پیدا کرنے کیلئے کرنا چاہتا ہے کیونکہ پہلی شادی سے اس کے ہاں صرف دو لڑکیاں ہیں یوں اس نے سہارے کی متلاشی ذکیہ بتو کو شیشے میں اتار کر خفیہ نکاح پر آمادہ کر لیا۔ یہ تقریب نکاح اس نے اپنے

ایک دوست کے مکان پر منعقد کی جس میں اس کے پانچ بدقماش دوست شریک ہوئے۔ کرائے ایک ایک مولوی سے ایجاب و قبول و نکاح کی فرضی کارروائی کے بعد اسے اپنی ملکیتی مکان پر لے جا کر عرصہ کئی ماہ تک ہوس کا نشانہ بناتا رہا اور بعد ازاں ہوس کی آگ ٹھنڈی ہونے پر اسے دھکے دیکر وہاں سے نکال دیا۔ مزید برآں اپنے ساتھ گزرنے والی قیامت کا کسی سے تذکرہ کرنے کی صورت میں

لڑکی کو عبرتناک انجام کی دھمکیاں دیں۔ ذکیہ بتول نے جب اپنے ساتھ ہونے والے دھوکے اور عزت لوٹنے والے کے خلاف مقامی تھانے میں داد رسی کیلئے کوشش کی تو مقامی پولیس جو کہ بااثر وڈیرے کی پشت بان تھی نے ذکیہ کو دھکے دے کر تھانے سے بھی باہر نکال دیا۔ ذکیہ بتول نے بالآخر میڈیا کے ذریعے چیف جسٹس آف پاکستان، خادم اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب سے فوری انصاف

کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ فریب اور فراڈ کے ذریعے سنت رسول نکاح کو مذاق بنانے اور ایک فرضی نکاح کی آڑ میں اس کی عزت سے کھیلنے والے عیاش وڈیرے کو فی الفور عبرتناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی ہوس پرست وڈیرا کسی کی بیٹی کی زندگی تباہ کرنے کی جسارت نہ کر سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…