جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

313فراری جنگجوؤں نے گھٹنے ٹیک دئیے ،حکومت پاکستان نے بھی قومی خزانے کے منہ کھول دئیے

datetime 9  دسمبر‬‮  2017 |

کوئٹہ(این این آئی) بلوچستان میں سینکڑوں علیحدگی پسند باغیوں نے ہتھیار ڈال دئیے۔تفصیلات کیمطابق مختلف کالعدم تنظیموں کے 313 فراری جنگجو ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے۔ بلوچستان اسمبلی کے احاطے میں ہتھیار ڈالنے کی تقریب ہوئی جہاں وزیراعلیٰ بلوچستان ثنااللہ زہری کے سامنے فراریوں نے ہتھیار ڈالے۔ اس موقع پر حکومت کی جانب سے فراریوں کو فی کس ایک ایک لاکھ روپے بھی دیے گئے اور وزیراعلیٰ بلوچستان نے

سرنڈر کرنیوالوں کو مزید مراعات دینے کا بھی اعلان کیا۔تقریب میں کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم نے بھی شرکت کی۔ حکام کے مطابق سرنڈر کرنے والوں میں 17 کمانڈرز سمیت 300 سے زائد فراری شامل ہیں۔ اس موقع پر صوبائی اسمبلی کے اندر اور باہر سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے جبکہ پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔وزیراعلیٰ بلوچستان ثنااللہ زہری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنگیں جذبے سے جیتی جاتی ہیں ہتھیاروں سے نہیں، ہمارے بھٹکے ہوئے نوجوانوں کے واپس آنے پرخوشی ہے ٗچند لوگ آپ کو کچھ ٹکوں کی خاطر استعمال کررہے ہیں اور خود باہر بیٹھ کر عیاشی کی زندگی گزار رہے ہیں، میں آپ کیساتھ ہوں امید ہے کہ مزید بھٹکے ہوئے لوگ بھی قومی دھارے میں شامل ہوجائیں گے۔قبل ازیں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے زیر اہتمام منعقدہ نیشنل سیکورٹی ورکشاپ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان ثنااللہ زہری نے کہا کہ بلوچستان کی آزادی کی نام نہاد تحریک کو ناکام بنادیا گیا ہے، ہم نے امن وامان کی صورتحال کی بہتری کے لئے سیکورٹی اداروں کو وژن دیا جس پر عملدرآمد سے آج ہتھیار اٹھا کر پہاڑوں میں جانے والے واپس قومی دھارے میں شامل ہورہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…