پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

حکومت ، حکمران جماعت اور ریاستی اداروں کے درمیان کشمکش اور تلخیاں بڑھ رہی ہیں، جماعت اسلامی کے اہم رہنما کا دعویٰ

datetime 1  دسمبر‬‮  2017 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل اور سابق پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ نے این اے 126 میں تعزیتی نشست اور سیرت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت ، حکمران جماعت اور ریاستی اداروں کے درمیان کشمکش اور تلخیاں بڑھ رہی ہیں ۔

سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے ریاستی اداروں سے تصادم کا راستہ اختیار تو کر لیاہے لیکن ان کی اپنی حکومتیں ، پارٹی ، قریبی ساتھی اور خاندان بھی اس کشمکش کے لیے تیار نہیں ہے۔ نہ ہی انہوں نے سیاسی جمہوری بنیادوں پر پارٹی منظم کی اور عوام سے رابطہ بھی نہ رکھا اسی لیے حساس اداروں اور عدلیہ کا ردعمل بے یقینی اور بے اطمینانی بڑھارہاہے ۔ وزیراعظم خاقان عباسی اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف اس صورتحال سے ملک کو نکالیں ۔ غلطی پر غلطی اور حماقت پر حماقت کے اقدامات بند کریں وگرنہ سیاسی جمہوری نظام کو ڈی ٹریک کرنے کے ذمہ دار وہ خود ہی ہوں گے ۔لیاقت بلوچ نے کہاکہ مہنگائی ، بے روزگاری ، سٹریٹ کرائمز اور پولیس کی قانون سے تجاوز کاروائیاں عوام کے لیے پریشانیوں کا باعث ہیں ۔پاکستان کا نوجوان اسلام و پاکستان سے محبت اور باعزت روزگار چاہتاہے لیکن ریاستی نظام ذہنی انتشار اور معاشرہ کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار کر رہاہے ۔ زراعت ملکی معیشت کا دل ہے لیکن کسان اور ہاری زبوں حالی کاشکار ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت انتخابات کے التواء کے امکانات کا سدباب کرے اور بر وقت قانون سازی کرے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…