پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

لفافوں میں پانچ، پانچ ہزار تھے جبکہ فیض آباد دھرنا مظاہرین کو ایک ، ایک ہزار ملا، باقی پیسے فوج نے نکال لئے ، کیپٹن صفدر باز نہ آئے ، پاک فوج پر گھٹیا الزام عائد کر دیا

datetime 30  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)فوج کو سر عام پیسے بانٹتے دیکھ کر دل دکھ رہا ہے، کیپٹن صفدر نے کہا ہے کہ ڈی جی رینجرز نے مظاہرین کو جو پیسے دئیے ان پیسوں کے لفافوں میں پانچ پانچ ہزار روپے تھے جبکہ چار ، چار

ہزار فوج نے لفافوں سے نکال لئے، انہوں نے پاک فوج پر یہ الزام پبلک میں عائد کیا ہے، فیض آباد دھرنے میں گالیاں دی گئیں جبکہ لاہور دھرنے میں بہت شائستہ زبان استعمال ہو رہی ہے، کور کمانڈر لاہور ہی اب دھرنا اٹھانے میں شہباز شریف کی مدد کر سکتے ہیں، اعتزاز احسن کی نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے پروگرام میں گفتگو۔ تفصیلات کے مطابق پیپلزپارٹی کے رہنما اعتزاز احسن نے نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فوج کو سرعام پیسے بانٹتے دیکھ کر دل دکھ رہا ہے۔ نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر نے کہا ہے کہ ڈی جی رینجرز کی جانب سے پیسوں کے جو لفافے فیض آباد دھرنے کے مظاہرین میں بانٹے گئے ان میں پانچ پانچ ہزار روپے تھے جبکہ لفافوں میں مظاہرین کو ایک ، ایک ہزار دیا گیا۔ فوج نے لفافوں سے چار ، چار ہزار نکال لئے۔ اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ کیپٹن (ر) صفدر نےسرعام پاک فوج پر الزام عائد کیا ہے۔ فیض آباد دھرنے میں گالیاں دی گئی ہیں جبکہ لاہور والے تو بہت شائستہ زبان الفاظ استعمال کر رہے ہیں لگتا ہے کہ کور کمانڈر لاہور ہی اب لاہور دھرنا اٹھانے میں شہباز شریف کی مدد کر سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…