جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

شاہ رخ جتوئی کی سزائے موت ،مقتول شاہ زیب کے اہل خانہ کو کتنے کروڑ روپے،بنگلہ اور فلیٹ دیاگیا؟شاہ رخ اب کہاں اور کس حال میں ہے؟تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

کراچی (این این آئی) شاہ رخ جتوئی کی سزائے موت پر سندھ ہائی کورٹ کے تازہ فیصلے کے بعد شاہ زیب قتل کیس میں دیت کی تفصیلات سامنے آگئیں۔ ذرائع کے مطابق دیت میں مقتول شاہ زیب کے اہل خانہ کو 27 کروڑ روپے ،ڈیفنس میں 500 گز کا ایک بنگلااور آسٹریلیا میں ایک فلیٹ بھی دیا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق شاہ زیب کے والد ڈی ایس پی اورنگزیب کے ساتھ کیا گیا

،دوسری طرف شاہ رخ جتوئی کو طبی بنیادوں پر جناح اسپتال منتقل کیا گیا تھا اور وہ ہسپتال میں دو ماہ سے موجود ہیں۔ خیال رہے کہ کیس میں اس وقت کے چیف جسٹس کے حکم پر انسداد دہشت گردی کی دفعات کو شامل کیا گیا تھا، جن کے تحت دیت ممکن نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہ رخ جتوئی جیل سے چار سے پانچ روز تک غائب ہو گیا تھا جبکہ اعلی حکام کو اس بات کا پتہ چلا تو پھر اسے واپس جیل لایا گیا۔ ذرائع یہ بھی کہتے ہیں وہ جناح اسپتال میں موجود ہے جہاں اسے تمام طرح کی سہولیات دستیاب ہیں، وہ اکثر رات اپنے گھر چلا جاتا ہے اور صبح واپس اسپتال آ جاتا ہے۔ اس سے قبل سندھ ہائیکورٹ نے شاہ زیب قتل کیس میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کا مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی کو پھانسی دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا تھا۔ ہائیکورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران ملزمان کے وکلا کی جانب سے صلح کی درخواست عدالت میں جمع کرائی گئی تھی، جس میں بتایا گیا کہ دونوں فریقین کے درمیان صلح ہوچکی ہے۔ اس پر سندھ ہائی کورٹ نے انسداد دہشت گردی عدالت کے جج سے انکوائری رپورٹ طلب کی جس میں بتایا گیا کہ ذاتی عناد پر جھگڑا ہوا جس پر شاہ زیب کو قتل کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…