جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

زاہد حامد کو وزارت کی قربانی دینے کا انعام مل گیا کونسا شاندار عہدہ دینے کا فیصلہ کر لیا گیا

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سابق وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کی سبکدوشی کے بعد انہیں اہم ملک میں سفیر بنائے جانے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق تحریک لبیک کے دھرنے کے بعد حکومت اور دھرنا قائدین کے درمیان فوج

کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کے تحت وفاقی وزیر قانون زاہد حامد وزارت سے استعفیٰ دے چکے ہیں اور ان کا استعفیٰ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے قبول کرلیا ہے۔ استعفیٰ دینے سے قبل زاہد حامد کی شہباز شریف سے دو گھنٹے طویل ملاقات بھی ہوئی تھی ۔ اب خبر یہ ہے کہ زاہد حامد کو اہم ملک میں سفیر بنائے جانے کا امکان ہے اور یہ فیصلہ چند ہی دنوں میں سامنے آجائے گا جس کے بعد زاہد حامد اپنے اہل خانہ کے ہمراہ ملک سے باہر چلے جائیں گے۔ زاہد حامد کے استعفے پر کابینہ میں بھی بعض وزرا ی جانب سے مخالف اور احتجاج کی خبریں زیر گردش ہیں۔ ان وزرا کا موقف ہے کہ اس طرح سے ایک سلسلہ چل پڑے گا اور کوئی بھی گروپ سڑکوں کو بلاک کر کے اس قسم کے مطالبے کریں گے کہ فلاں شخص استعفیٰ دے ۔ خیال رہے کہ ختم نبوتؐ حلف نامے میں تبدیلی کے بعد عوامی اور مذہبی حلقوں کے دبائو پر ن لیگ کے سربراہ نواز شریف نے راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی تھی جس کی رپورٹ نواز شریف کو پیش کر دی گئی ہے ۔ رپورٹ کے مندرجات کے حوالے سے سامنے آنے والے انکشافات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وفاقی کابینہ کے دو وزرا اس تمام کام میں ملوث ہیں تاہم ان وزرا کا رپورٹ میں ذکر نہایت مبہم انداز میں موجود ہے جب کسی کو واضح انداز میں رپورٹ کے اندر بھی ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…