یاسرعنسیؓ کے والد کا نام عامر اور دادا کا مالک تھا۔ان کا شجر�ۂ نسب یعرب بن قحطان سے جا ملتا ہے جو ایک قول کے مطابق اس دنیا میں عربی بولنے والے پہلے شخص تھے، دوسری رائے میں یہ شرف حضرت اسماعیل علیہ اسلام کو حاصل ہے۔یعرب یمن کے تمام عرب قبائل کے جد اعلیٰ ہیں،ان کی دسویں نسل میں زید بن مالک ہوئے جو اپنے لقب عنس سے مشہور ہیں۔انہی کے نام سے قبیل�ۂ عنس منسوب ہواجس میں یاسرؓپیدا ہوئے۔شہر سبا کے اجڑنے کے بعد عنس اور خزرج قبائل یثرب( مدینہ) میں آ بسے جب کہ دوسرے یمنی قبائل شام ،عراق ، یمامہ اور نجد کے مختلف علاقوں میں بکھر گئے ۔مکہ ہر دور میں بے سہارا لوگوں کی جائے پناہ رہا ہے،بیت اﷲ کی موجودگی کی وجہ سے یہ امن کا گہوارا تھا۔یہی وجہ ہے کہ یمن کے خراب حالات اور خشک سالی کے باعث یاسرؓکا ایک بھائی اپنے کئی ہم وطنوں کی طرح گھر سے بھاگ نکلا تو انہوں نے اس کا کھوج لگانے کے لیے مکہ کا رخ کیا۔ان کے دو دوسرے بھائی حارث اور مالک ان کے ساتھ تھے۔بھائی نہ ملا تو وہ دونوں تو مایوس ہو کر وطن واپس چلے گئے لیکن یاسرؓ کو مکہ ایسا بھایا کہ وہیں بس گئے۔ انہوں نے قبائلی رواج کے مطابق ابوجہل کے چچا مہشم بن مغیرہ مخزومی کے ساتھ جینے مرنے کا حلف اٹھا لیا۔مہشم جواپنی کنیت ابوحذیفہ سے مشہور ہیں ، اپنے قبیلے بنومخزوم کے معزز سردار تھے۔ انہوں نے یاسرؓ کے ساتھ بہت اچھا برتاؤ کیا،یاسرؓ بھی ان کی بہت عزت کرتے تھے۔ کچھ وقت گزرا تو انہوں نے بنولخم سے تعلق رکھنے والی اپنی باندی سمیہؓ بنت خباط(یا خیاط) سے یاسرؓ کی شادی کر دی۔
۵۷۰ ء ،عام الفیل(دوسری روایت :۵۶۶ء ) میںیاسرؓ کے ہاں عمارؓکی ولادت ہوئی ،یہی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی ولادت کا سال ہے۔ان کے دو بیٹے اور ہوئے ، عبداﷲؓ (یاعبود)اور حریث(یا حویرث)۔یاسرؓ کی کنیت ابو عمارؓؓ تھی۔ تاریخ میں اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ ابو حذیفہ نے یاسرؓ اور عمارؓکو آزاد کر دیا لیکن اس ضمن میں سمیہؓ کا نام نہیں لیا گیا۔ یاسرؓ کا کنبہ آخری وقت تک ابوحذیفہ کے ساتھ رہا۔ابوحذیفہ کی وفات بعثت نبویؐ سے پہلے ہوئی۔حریث کو دورجاہلیت میں بنودیل نے قتل کر دیا ۔
بعثت سے قبل بھی نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے یاسرؓ کے کنبہ سے قریبی تعلقات تھے۔ سیدناابوبکرؓ کی طرح حضرت عمارؓبھی آپؐ کے دوست تھے ۔کتب سیرت میں درج ابن اسحاق کی یہ روایت مشہور ہے کہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی امانت و دیانت کا شہرہ سن کر سیدہ خدیجہؓنے مال تجارت دے کر اپنے غلام میسرہ کو آپؐ کے ساتھ شام بھیجا۔میسرہ نے واپس آ کرآپؐ کی نیک نامی کا اور بھی چرچا کیا،اس نے بتایا کہ سخت گرمی میں دو فرشتے آپؐ پر سایہ فگن ہوتے تھے اورایک عیسائی راہب نے آپؐ کے نبی ہونے کا اشارہ کیا۔یہ باتیں سن کرخدیجہؓ کو رغبت ہوئی اور انہوں نے آپؐکو نکاح کا پیغام بھیج دیا۔ اس ضمن میں ایک دوسری روایت بھی نقل کی جاتی ہے کہ ایک دفعہ آپؐاور عمارؓ بن یاسرؓمکہ کے بازار’حزْ ورہ‘ سے گزر رہے تھے۔ سیدہ خدیجہؓ کی بہن نے جو وہاں چمڑا بیچ رہی تھیں،عمارؓ کو بلا کر آپؐ کے لیے خدیجہؓ کا رشتہ تجویز کیا۔آپؐ نے رضامندی ظاہر کی تو اگلے ہی روز یہ پاک جوڑا نکاح کے بندھن میں بندھ گیا۔(مجمع الزوائد)
مکہ نور اسلام سے منور ہواتو حضرت یاسرؓ نے ایمان لانے اور اس کا اظہار کرنے میں دیر نہ لگائی ۔ان کی اہلیہ سمیہؓ نے ان کا ساتھ دیاچنانچہ وہ اسلام کی طرف لپکنے والے نفوس قدسیہ(السابقون الاولون )میں شامل ہوئے۔ عمارؓ اور صہیب رومیؓ ایک ہی روز ایمان لائے ۔ابن اثیر کہتے ہیں،تب اہل ایمان کی تعداد تیس سے کچھ اوپر ہو چکی تھی اور نبی صلی اﷲ علیہ وسلم دار ارقمؓ منتقل ہو چکے تھے۔غالب گمان ہے کہ ان کے والد یاسرؓاوروالدہ سمیہؓ ان سے پیشتر نعمت اسلام سے سرفراز ہوئے۔ یاسرؓکے دوسرے بیٹے عبداﷲؓنے بھی دین حق کی دعوت پر لبیک کہا۔عمارؓ بن یاسرؓ فرماتے ہیں ، (ابتدائے اسلام میں)میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو اس حال میں دیکھا ہے کہ پانچ غلام، دوعورتوں اور (ایک آزاد مرد)ابوبکرؓ کے علاوہ آپؐ کا ساتھ دینے والا کوئی نہ تھا۔(بخاری:۳۶۶۰) ابن حجر کہتے ہیں،مذکورہ پانچ غلاموں میں بلالؓ،زیدؓ بن حارثہ ، عامرؓ بن فہیرہ اور ابو فکیہہؓ کا شامل ہونا یقینی ہے تاہم پانچویں غلام مومن کے بارے میں مختلف احتمالات ہیں۔ممکن ہے کہ وہ شقرانؓہوں ،یاسر عنسیؓ ہوں یا خود راوئ حدیث عمارؓ بن یاسرؓ ہوں۔اس روایت میں دو عورتوں سے مراد سیدہ خدیجہؓ اور سمیہؓ یا ام ایمنؓ ہیں۔ عمارؓ نے ایمان لانے والے آزاد مردوں میں صرف ابوبکرؓ کا نام لیا ہے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ احرار مسلمانوں کی ایک جماعت موجود تھی جو اعزہ و اقارب سے اپنا ایمان چھپائے ہوئی تھی۔
جب آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے اعلان نبوت کیا ،بنو مخزوم کی سرداری عمرو بن ہشام( ابوجہل )کے پاس آ چکی تھی ۔وہ اول روز سے اسلام اور مسلمانوں کا بدترین دشمن تھا،یہی وجہ ہے کہ سمیہؓ اس کی اور دوسرے مشرکین کی ایذاؤں کا خاص نشانہ بننے والے سات اصحابؓ میں شامل ہوئیں۔(ابن ماجہ:۱۵۰) یاسرؓ ان کے ساتھ تھے۔ یاسرؓ سے ان کے حلیف قبیلے والوں نے پوچھا، کیا سچ ہے ،تم محمد(صلی اﷲ علیہ وسلم)پر ایمان لے آئے ہو؟یاسرؓ نے کہا،ہاں۔مزید کہا، تمہیں پتا ہے ،وہ ہمارے معبودوں اور آبا ؤ اجداد کو برا بھلا کہتے ہیں؟جواب دیا ،ہاں۔پھر بھی ان کی پیروی کرتے ہو؟کیا تمہیں لات ،عزی اور ہبل پرایمان نہیں رہا؟یاسرؓ نے کہا،ہمیں محمدصلی اﷲ علیہ وسلم کی دعوت کے حق ہونے کا یقین ہے،آسمانوں اور زمین کا مالک اﷲ ہی ہمارا رب ہے۔سمیہؓ نے بھی پختہ ایمان ظاہر کیا تو بنومخزوم نے اپنے تشدد میں اضافہ کر دیا۔ یاسرؓ اور سمیہؓکوزنجیروں سے باندھ کر سخت گرمی میں کھلے آسمان تلے گرم ریت پر لٹا دیا جاتا۔انہیں پیٹا جاتا ، کوڑے برسائے جاتے ،داغا جاتااور محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کو برا بھلا کہنے اور لات وعزی کی ستائش کرنے کو کہا جاتا۔وہ اﷲ اکبر ، لا الہ الا اﷲ کے کلمے بلند کرتے تو سینوں پر بھاری پتھر رکھ دیے جاتے۔اس قدر تکلیف دی جاتی کہ ذہن ماؤف ہو جاتا اور انہیں اپنی کہی بات سمجھ نہ آتی۔
عبداﷲؓ بن مسعو د بیان کرتے ہیں، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ، ابوبکرؓ، عمارؓ، سمیہؓ،صہیبؓ، بلالؓ اور مقدادؓ (یا خبابؓ)اپنے اسلام کا اظہار کرنے والے پہلے سات نفوس تھے۔ آپؐ کی حفاظت آپؐ کے چچا ابوطالب نے کی،ابوبکرؓ کو ان کی قوم نے بچایا، باقی پانچوں کو مشرکین لوہے کی زرہیں پہنا کرتپتی دھوپ میں بٹھا دیتے۔غلام ہونے کی وجہ سے ان کا دفاع کرنے والا کوئی نہ تھا۔ ان میں سے کوئی نہ تھا جس نے مشرکین کی بات نہ مانی،بلالؓ ہی تھے جنہوں نے اﷲ کی راہ میں اپنی جان کی پروا نہ کی ، ان کی قوم کوبھی ان کا خیال نہ ہوا ۔کافروں نے ان کو لڑکوں کے حوالے کر دیا، وہ انہیں پکڑ کر مکہ کی گھاٹیوں میں گھومے پھرے ،وہ ’’اﷲ ایک ہے‘‘، ’’اﷲ ایک ہے ‘‘کی صدا لگاتے رہے۔ (مسند احمد: ۳۸۳۲، ابن ماجہ: ۱۵۰)
جسمانی سزائیں دینے کے علاوہ اہل مکہ کو ان کمزور مسلمانوں کے ساتھ لین دین کرنے سے منع کر دیا گیا۔دونوں میاں بیوی نے عمر رسیدہ اور ضعیف ہونے کے باوجود صبرو استقامت کا مظاہرہ کیا ۔مسلمان اس وقت تعداد میں کم اور کم زور تھے ، ان میں سے بھی اکثر نے اپنا ایمان مخفی رکھا تھا اس لیے مشرکوں کو جور و ستم سے روکنے والا کوئی نہ تھا۔ان کی ایذاؤں کی تاب نہ لا کر پہلے یاسرؓ شہادت سے سرفراز ہوئے۔ تاریخ اسلامی میں ان کے آخری ایام اور شہادت کے حالات کا ذکر نہیں ملتا البتہ حسب ذیل روایتوں سے ان مظالم کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جو ان کی جان لینے کا سبب بنے۔سیدنا عثمانؓ بتاتے ہیں، ایک بار میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کے ریگزارگیا،آپؐ میرا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ یاسرؓ،سمیہؓ اورعمارؓ کے پاس سے آپؐگزرے( تو دیکھا کہ) انہیں ایذائیں دی جا رہی ہیں۔ یاسرؓ نے التجا کی،یا رسول اﷲ! کیا یہ سلسلہ ہمیشہ جار ی رہے گا؟آپؐ نے جواب دیا،صبر کرو ،پھر دعا فرمائی، اﷲ!آل یاسرؓ کی مغفرت کر دے۔ بلاشبہ تونے مغفرت کر دی ہے۔(مسند احمد:۴۳۹)
مستدرک حاکم میں ہے صبراً یاآل یاسر،ان موعدکم الجنۃ۔ آل یاسر صبر سےّ چپکے رہو ،تم سے جنت کا وعدہ ہے ۔ (مستدرک حاکم: ۵۶۴۶)عمارؓ نے کہا، یارسول اﷲ ؐ!ہم پر پوری شدت سے عذاب ٹوٹ پڑا ہے ۔آپؐ نے فرمایا،ابو الیقظانؓ !(عمارؓکی کنیت) صبر کروپھر رب سے التجا کی، اللہم لا تعذب احداً من آل یاسر بالنار،اے اﷲ!آل یاسر میں سے کسی کو دوزخ کی سزا نہ دینا۔(الاستیعاب)
یاسرؓ کی شہادت کے بعد سمیہؓ کا ایمان اور پختہ ہو گیا۔ تب ابوحذیفہ کے بیٹوں نے انہیں ابو
جہل کی تحویل میں دے دیا۔اس نے ان پر خوب ظلم ڈھایا اور طرح طرح کی ایذائیں پہنچائیں ۔ آخرکار اس نے ان کے پیٹ کے نچلے حصے میں بھالادے مارا اور ان کی جان لے لی۔ان کی تاریخ شہادت ہجرت نبویؐ سے سات سال پہلے ۶۱۵ ء ہے ۔ عمارؓ کو بھی تپتی دھوپ میں لٹا کر، ان کے سینے پر بھاری پتھر رکھ کریا پانی میں ڈبکیاں دے کر ایذا دی جاتی رہی۔ انہیں کہا گیا، محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم ) کو گالیاں دے دو ،لات و عزیٰ کو بھلا کہہ دو تو ہم تجھے چھوڑ دیتے ہیں۔ روتے روتے نب�ئ اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس آئے۔آپؐ نے سوال فرمایا،تم اپنے دل کو کس کیفیت میں پاتے ہو؟ جواب دیا، میں اسے ایمان پر مطمئن پاتا ہوں۔ فرمایا، دوبارہ ایسی صورت حال پیش آئے تو پھر یہی کچھ کرنا۔(مستدرک حاکم:۳۳۶۲) ابن مسعودؓ کی روایت (ابن ماجہ :۱۵۰)کی یہ بات کہ بلالؓ کے علاوہ سزائیں جھیلنے والے ہر اولوالعزم نے مشرکوں کی مانگ پوری کی یعنی بظاہر کفریہ کلمات کہہ کرجان بچائی، یاسرؓ اور سمیہؓ کی سیرتوں کے مطالعہ سے غلط ثابت ہو جاتی ہے۔
افسوس کہ یاسرؓ کی تاریخ شہادت کے بارے میں ہمیں کوئی راہ نمائی نہیں ملتی تاہم جن مؤرخین نے ان کی شہادت کاذکر کیا ہے، اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ سمیہؓ کے منصب شہادت پر فائز ہونے سے پہلے جام شہادت نوش کر چکے تھے۔اس لیے مجاہد کے اس قول کی کہ ’’سمیہؓ عہد اسلامی کی پہلی شہید تھیں‘‘ یہ تاویل کی جائے گی کہ وہ پہلی شہید عورت تھیں۔ابن سعد اور ابن قتیبہ کہتے ہیں، یاسرؓ کے شہید ہونے کے بعد سمیہؓحارث بن کلدہ کے رومی غلام یاسر ازرق کے نکاح میں آئیں۔یاسرؓ اور سمیہؓ کی شہادت کے وقت اہل ایمان پر بڑا کٹھن وقت تھا ۔ان کی شہادت کے بعد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کا مشورہ دیا ۔ایک روایت کے مطابق عمارؓ بن یاسرؓ بھی ان مہاجرین میں شامل تھے۔
مطالعۂ مزید: السیرۃ النبویہ (ابن ہشام)،الطبقات الکبری(ابن سعد)، دلائل النبوۃ (بیہقی)،الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب(ابن عبدالبر)، الکامل فی التاریخ (ابن اثیر)، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ(ابن اثیر)، البداےۃ والنہاےۃ (ابن کثیر)، تاریخ الاسلام (ذہبی)، فتح الباری (ابن حجر)،الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ (ابن حجر)،منتہی الآمال فی تاریخ النبی و الآل ( عباس قمی)،نساء مبشرات بالجنۃ(احمد خلیل جمعہ)، یاسر پسر عامر(وکی پدیا، دانشنام�ۂ آزاد)



















































