اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیر اعظم نواز شریف اور چین کے صدر شی چن پنگ نے اربوں ڈالر کے کئی معاہدوں پر دستخط کردیئے ہیں۔ وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد میں پاکستان اور چین کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے جس میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیراعظم نوازشریف جب کہ شی چن پنگ چینی وفد کی قیادت کی۔ مذاکرات میں دونوں ممالک کے درمیان معاشی، اقتصادی، تجارتی امور کے علاوہ دفاعی اور اسٹریٹجک معاملات پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف نے چینی صدر شی چن پنگ اور ان کی اہلیہ کے دورہ پاکستان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان کا بااعتماد اور بہترین دوست ہے، چین کےعوام نے ہمیشہ ہمارا پرجوش استقبال کیا ہے۔ چین کے صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان چین دوستی ہمارا مشترکہ اثاثہ ہے، اس کا فروغ ہمارے شاندار مستقبل کا ایجنڈا ہے، دوستی کےرشتے کو مزید مضبوط بنانا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، اسی لئے رواں سال کے پہلے غیر ملکی دورے کے لئے انہوں نے پاکستان کا انتخاب کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ علاقائی اور عالمی امور پر دونوں ممالک کا موقف یکساں ہے، پاکستان اور چین نے یمن سے ایک دوسرے کے شہریوں کو نکالنے میں مدد کی۔ انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آپ انتہائی تجربہ کار ہیں، آپ نے حکومت میں آکر دوررس اصلاحات کا آغاز کیا جو پاکستان کے لیے بہت اہم ہیں، اس کے علاوہ دہشت گردی کے خلاف آپ کی جدوجہد بھی انتہائی قابل ستائش ہے۔
وفود کی سطح پر مذاکرات کے بعد وزیراعظم نوازشریف اور چینی صدر شی چن پنگ نے 8 منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا جن میں توانائی کے 5 جب کہ پاکستان میں چین کے ثقافتی مرکز کے قیام کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ اس سے قبل چین کے صدر شی چن پنگ کا طیارہ جیسے ہی پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوا تو اسے پاک فضائیہ کے 8 جے ایف 17 تھنڈر طیاروں نے ایسکارٹ کیا۔ چین کے صدر جیسے ہی نورخان ائربیس اسلام آباد میں اپنے طیارے سے اترے تو انہیں 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔ صدر ممنون حسین، وزیراعظم نواز شریف، وزیراعلی پنجاب شہباز شریف، وفاقی وزراء، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور دیگر اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا۔ ایئرپورٹ پر چینی صدر اور خاتون اول کو روایتی رنگا رنگ ملبوسات پہنے ہوئے بچوں نے گل دستے پیش کئے۔ مسلح افواج کے ایک چاق وچوبند دستے نے چینی صدر کو گارڈ آف آنر پیش کیا، اس موقع پر دونوں ملکوں کے ترانے بھی بجائے گئے جب کہ پاک فضائیہ کے آٹھ جے ایف 17 تھنڈر طیاروں نے فلائی پاسٹ پیش کیا۔ بعد ازاں وہ ایوان صدر روانہ ہوگئے جہاں ان کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ چین کے صدر کے دورے کے موقع پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی میں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ریڈ زون کی سیکیورٹی پاک فوج کے 111 بریگیڈ کے سپرد ہے۔ اس کے علاوہ پولیس، رینجرز اور ایف سی کے بھی 3 ہزار 500 سے زائد اہلکار سیکورٹی فرائض انجام دے رہے ہیں۔واضح رہے کہ چین کے صدر کل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے بھی خطاب کریں گے جس کے لئے قومی اسمبلی کی گیلریوں کو 9 حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے، اجلاس کے دوران سیکیورٹی گارڈز اور ذاتی عملے کا داخلہ پارلیمنٹ میں ممنوع ہوگا۔
پاکستان اور چین کے درمیان اربوں ڈالر کے متعدد منصوبوں کے معاہدوں پر دستخط
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
اسکولوں میں چھٹی کا اعلان کردیا گیا
-
بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)
-
طلبہ کےلئے خوشخبری،ہفتہ وار دو چھٹیوں کا اعلان
-
سعودی عرب جانے والے پاکستانیوں کیلئے اہم ہدایت نامہ جاری
-
کراچی؛ فلیٹ سے ڈاکٹر، اسکی بیوی اور 3 بچوں کی لاشیں برآمد، ابتدائی تفتیش میں اہم انکشاف
-
مسافروں کیلیے الرٹ؛ دبئی، ابوظہبی اور شارجہ کی کئی پروازیں منسوخ
-
عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہو گیا، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان
-
حکومت کی ایک سال کے لیے پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کی تجویز
-
بھارت کے امیر ترین کھلاڑی ویرات کوہلی کی مالیاتی سلطنت کی تفصیلات سامنے آ گئیں
-
شہریوں کیلئے بڑی سہولت، پاسپورٹ بنوانا مزید آسان
-
اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج، متعدد تعلیمی اداروں میں غیراعلانیہ تعطیلات
-
نقاب پر پابندی، اسکولوں کے لیے نئی مجوزہ پالیسی سامنے آگئی
-
حکومت بجلی کی خرید و فروخت کے عمل سے باہر؛ صارفین اب بجلی خود خرید سکیں گے
-
دنیا بھر میں ایرانی ایئرلائنز کی سروس بند، نہ ٹکٹ نہ لینڈنگ کی اجازت ہوگی



















































