اتوار‬‮ ، 26 جولائی‬‮ 2026 

اسلام آبادمیں خوفناک دھرنا،اصل میں کیا ہورہاہے؟غیرملکی سفیروں نے کیا پیغام دیا؟اہم وزراءننگی گالیاں کھانے کے باوجود کیا کرتے رہے؟کیا حکومت واقعی ناکام ہو چکی ،جاوید چودھری کے انکشافات‎

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

میں آپ کے سامنے دو واقعات رکھنا چاہتا ہوں‘ یہ دونوں واقعات ہماری نفسیات‘ ریاست کی سوچ اور حکومت کی رٹ تینوں کی تشریح ہیں‘ پہلا واقعہ ملاحظہ کیجئے‘ آج ملتان میں 80 سال کے ایک بزرگ ادریس احمد اور ان کی 75 سال کی اہلیہ نسیم بی بی احتجاج کیلئے ایم ڈی اے آفس کے باہر پہنچے‘ یہ دونوں اپنی پانچ کنال زمین کیلئے احتجاج کر رہے تھے‘ ان کی زمین پر ایم ڈی اے کے اہلکاروں نے قبضہ کر لیا تھا‘ پولیس آئی‘ بزرگ خاتون اور مرد کو مارا‘

سڑک پر گھسیٹا‘ گاڑی میں ڈالا‘ انہیں اپنے پاؤں میں بٹھایا اور تھانے لے جا کر حوالات میں بند کر دیا‘ آپ اب دوسرا واقعہ ملاحظہ کیجئے‘ اسلام آباد میں پندرہ دنوں سے ایک خوفناک دھرنا چل رہا ہے‘ دھرنے کے شرکاء نے راولپنڈی اور اسلام آباد کے 20 لاکھ لوگوں کو یرغمال بنا رکھا ہے‘ کاروبار تباہ ہو چکے ہیں‘ دفاتر کا نظام درہم برہم ہے‘ تعلیمی اداروں میں چھٹیاں ہو چکی ہیں‘ ائیر پورٹ کے راستے مسدود ہو چکے ہیں‘ ایمبولینسز تک کو راستہ نہیں مل رہا اور سفارت کاروں نے اپنے اپنے ملکوں کو پاکستان کو سفر کیلئے نامناسب قرار دینے کی درخواستیں بھجوا دی ہیں لیکن حکومت ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود دھرنے کے شرکاء سے مذاکرات بھی کر رہی ہے‘ ان کی حفاظت بھی کر رہی ہے اور ان پر روزانہ 50 لاکھ روپے بھی خرچ کر رہی ہے‘ مجھے یقین ہے مظاہرین یہاں سے اٹھنے سے قبل اپنے درجن بھر مطالبات بھی منوا لیں گے‘ یہ دونوں واقعات ایک جیسے ہیں لیکن ریاست کا رویہ دونوں کیلئے مختلف ہے‘ ایک طر ف ریاست بوڑھے شخص اور بزرگ خاتون کو جائز مطالبے کے باوجود پھینٹیاں لگا رہی ہے اور دوسری طرف ریاست کے دس دس اہم وزراء ننگی گالیاں کھانے کے باوجود دھرنے کے نمائندوں کو عزت کے ساتھ سامنے بٹھا کر مذاکرات کر رہے ہیں‘ حکومت عدالت کا حکم تک نہیں مان رہی‘ یہ تضاد یہ فرق کیوں ہے‘

میری ملتان کے بزرگ جوڑے سے درخواست ہے آپ اگر آئندہ کبھی احتجاج کیلئے نکلیں تو آپ سو پچاس لوگ ساتھ لے کر نکلیں‘ آپ اسلام آباد آئیں‘ کوئی مین روڈ بند کریں‘ آپ احتیاطاً اپنے ساتھ کسی مولانا کو بھی لے آئیں اور اگر ہو سکے تو آپ اپنے احتجاج میں ایک آدھ کنٹینر بھی شامل کرلیں‘ حکومت آپ کی میزبانی بھی کرے گی‘ آپ سے مذاکرات بھی کرے گی اور آپ کے جائز ناجائز مطالبات بھی مانے گی آپ اگر یہ نہیں کرسکتے تو پھر آپ پولیس کی چھترول کیلئے تیار رہیں۔حکومت آج بھی دھرنا ختم نہیں کرا سکی‘ حکومت کی اس ناکامی پر اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے بڑا دعویٰ کیا،چیئرمین سینٹ نے اس سے بھی خطرناک خیالات کااظہار کیا،یہ سلسلہ کہاں تک چلے گا‘ کیا حکومت واقعی ناکامی ہو چکی ہے اور کیا ریاست اور ریاست کی رٹ ختم ہو چکی ہے‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا اور وزیر داخلہ احسن اقبال ہمارے مہمان ہوں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



2076ء


آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…