پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

لڑکی کو برہنہ کرکے گھمائے جانے کا افسوسناک واقعہ، عمران خان بالآخر حرکت میں آ گئے، اہم رہنما کو پارٹی سے نکالنے کا اعلان کر دیا

datetime 17  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈیرہ اسماعیل خان کے گاؤں میں ایک سولہ سالہ لڑکی کو برہنہ پھرائے جانے پر علی امین گنڈا پور کو اس واقعہ کی سرپرستی کرنے کا الزام لگایا جا رہا تھا جو تحریک انصاف کے رہنما داور کنڈی لگا رہے تھے، پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان

نے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں لڑکی کی بے حرمتی کے واقعہ کے بعد تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈا پور پر انگلیاں اٹھانے پر داور کنڈی کو تحریک انصاف سے نکالنے کا اعلان کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں لڑکی کو برہنہ کرکے گاؤں کا چکر لگوانے کے واقعے کے بعد تحریک انصاف کے داور کنڈی نے امین گنڈا پور پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ملزمان کی پشت پناہی کر رہے ہیں اس بات کی تصدیق لڑکی کے خاندان والوں نے بھی کی تھی لیکن تمام تر الزامات کے بعد چیئرمین تحریک انصاف عمران خان علی امین گنڈا پور کی حمایت میں میدان میں آ گئے ہیں اور انہوں نے کہا کہ داور کنڈی محض الزامات لگا رہے ہیں اور جھوٹ کا سہارا لے رہے ہیں، عمران خان نے کہا کہ داور کنڈی کافی عرصے سے غیر فعال ہیں اور گذشتہ ایک سال سے پارٹی قیادت پر الزامات لگا رہے ہیں، داور کنڈی میرے پاس آنے کی بجائے میڈیا پر چلے گئے انہیں میرے پاس آنا چاہیے تھا۔ ان الزامات کے بعد تحریک انصاف کی نظم و ضبط کے حوالے سے قائم کمیٹی کو عمران خان نے داور کنڈی کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…