جمعہ‬‮ ، 09 اکتوبر‬‮ 2026 

ایران و عراق کے سرحدی علاقے میں خوفناک زلزلہ ،ہلاکتیں 350سے تجاوز کر گئیں،سینکڑوں عمارتیں تباہ

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

بغداد(آن لائن) ایران اور عراق کے درمیان سرحدی علاقوں میں آ نے والے 7.3 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتو ں کی تعداد 350 سے تجاوز کر گئی ہیں  جبکہ سیکڑوں عمارتوں کو بھی شدیدنقصان پہنچا ہے ،امریکی جیولوجیکل سروے کی رپورٹ کے مطابق زلزلہ عراق اور ایران کی سرحد کے قریب آیا، جس کی شدت سے خطے کے دیگر ممالک میں بھی جھٹکے محسوس کیے گئے۔امریکا کے خبر رساں ادارے سی این این نے رپورٹ

کیا کہ اب تک کی معلومات کے مطابق زلزلے میں ابتدائی طو پر 0 15سے زائد افراد کی ہلاکت ہوئی جبکہ سیکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے۔رپورٹس کے مطابق زلزلے کا مرکز ایران کے سرحد کے قریب عراق کا شہر حلبجہ تھا۔ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں 350 سے زائدافراد ہلاک اور 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا۔ایران کے صوبے کرمنشاہ کے ڈپٹی گورنر مجتبیٰ نکردار کا کہنا تھا کہ ‘ہم تین ایمرجنسی ریلیف کیمپس قائم کر رہے ہیں’۔ایران کے ایمرجنسی سروسز کے سربراہ پیر حسین کولی وند نے بتایا کہ ‘سڑکوں کے ٹوٹ جانے اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے دیہی علاقوں میں ریسکیو کی ٹیمیں بھیجنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں’۔عراقی حکام کا کہنا تھا کہ زلزے کی وجہ سے صوبہ سلیمانیہ میں20 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 150 کے قریب زخمیوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔عراق کے محکمہ ارضیات نے فوری طور پر سرکاری ٹی وی پر انتباہ کی خبر جاری کی کہ شہری عمارتوں سے دور رہیں جبکہ لفٹ کے استعمال سے بھی اجتناب کریں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق زلزلے کے جھٹکے ایران، لبنان، کویت، ترکی سمیت پاکستان میں بھی محسوس کیے گئے۔قبل ازیں 1990 میں ایران کے شمالی علاقے کیسپین

سمندر کے قریب 7.4 شدت کے زلزلے نے 40 ہزار افراد کی جان لے لی تھیاور 3 لاکھ افراد زخمی ہوگئے تھے جبکہ 5 لاکھ افراد بے گھر بھی ہوئے تھے۔بہت تھوڑے ہی وقت میں زلزے نے درجنوں شہر اور 2 ہزار کے قریب گاؤں میں تباہی مچا دی تھی۔2003 میں جنوب مشرقی ایران کے مٹی کی اینٹوں کے لیے مشہور شہر بام میں خوفناک زلزلے سے 31 ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔بعد ازاں ایران میں متعدد مرتبہ زلزلے آئے اور 2005 کے زلزلے میں 600 افراد ہلاک ہوئے اور 2012 کے زلزلے میں 300 کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…