پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

بیوی سے آخری ملاقات، کلبھوشن یادیو کو پھانسی؟ خبر آتے ہی بھارت میں صف ماتم بچھ گئی

datetime 12  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان نے گرفتار بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اس کی بیوی سے ملاقات کیلئے بھارت کو پیش کش کی ہے جس کا ابھی تک بھارت سے باضابطہ طور پر کوئی جواب نہیں آیا، ترجمان دفتر خارجہ نے گزشتہ روز نجی ٹی وی

سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں موجود بھارتی ہائی کمیشن کو اس حوالے سے باضابطہ طور پر نوٹ وربل لکھ دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی اس کی بیوی سے ملاقات کیلئے تیار ہے اور اس کا انتظام کر رہا ہے۔ پاکستان کی جانب سے اس پیش کش کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ چکی ہے اور کئی سوشل میڈیا صارفین کی رائے میں پاکستان نے کلبھوشن یادیو کو پھانسی دینے کا ارادہ کر لیا ہے اور اس سلسلے میں کیونکہ عام رائج روایت یہی ہے سزائے موت کے قیدی کو پھانسی دینے سے قبل اس کی اس کے اہلخانہ سے ملاقات کروائی جاتی ہے۔ خیال رہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو پاکستانی سکیورٹی فورسز نے تین مارچ 2016کو ایران سے پاکستان میں داخل ہوتے ہوئے سرحدکے قریب سے گرفتار کیا تھا۔ کلبھوشن مبارک حسین پٹیل کے فرضی نام سے ایرانی شہر چاہ بہار میں ایک تاجر کے روپ میں رہ رہا تھا اور وہاں سے پاکستان میں دہشتگردی کا نیٹ ورک چلا رہا تھا۔ پاکستان میں مقدمے کی سماعت کے بعد کلبھوشن کو سزائے موت کی سزا سنائے جانے کے بعد بھارت کلبھوشن کا معاملہ عالمی عدالت انصاف میں لے جا چکا ہے جہاں اس کیس کی سماعت ہونا باقی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…