پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

آرمی چیف کا ایران جا کر ایسا اعلان کہ بھارت تلملا اٹھا، حسن روحانی،جواد ظریف،میجر جنرل باغری نے بھی حمایت کردی

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

راولپنڈی/ تہران ( آئی این پی )آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک ایران سرحد کو امن اور دوستی کی سرحد قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ پاک ایران بارڈر مینجمنٹ نہایت ضروری ہے ، بارڈر مینجمنٹ سے پاک ایران تعلقات خراب کرنے کی کوشش ناکام ہوگی ، دہشتگردی اور انتہا پسندی مشترکہ دشمن ہیں ، پاکستان اور ایران برادر پڑوسی ملک ہیں جو ثقافتی تاریخی اور مذہبی رشتے میں جڑے ہوئے ہیں، دونوں ممالک کی مسلح افواج

کے درمیان باہمی تعاون کی ایک تاریخ ہے ، دونوں ممالک کی افواج کے درمیان تعاون مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے دورہ ایران کے دوران ایرانی سول و فوجی قیادت سے ملاقاتیں کیں ۔ آرمی چیف نے ایرانی چیف آف جنرل سٹاف میجر جنرل محمد باغری سے جنرل سٹاف ہیڈ کوارٹر میں ملاقات کی جہاں آرمی چیف کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور انہوں نے یادگار شہداء پر پھول چڑھائے بعدازاں وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سے بھی وزارت خارجہ میں ملاقات کی ۔ اس کے علاوہ انہوں نے صدارتی محل میں ایرانی صدر حسن روحانی سے بھی ملاقات کی ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ایرانی قیادت نے دورہ ایران پر آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں اور کامیابیوں کو سراہا ۔ ایرانی قیادت نے کہا کہ خطے میں قیام امن کے لئے پاکستان مثبت کردار ادا کر رہا ہے ۔ ملاقاتوں کے دوران آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے جیو اسٹرٹیجک انوائرمنٹ ، دفاع اور سیکیورٹی ، اقتصادی تعاون پر دو طرفہ اور علاقائی سطح پر تبادلہ خیال کیا ۔

ملاقاتوں میں افغانستان کی صورتحال ، خطے میں داعش کے بڑھتے ہوئے خطرات اور پاک ایران سرحدی سیکیورٹی سے متعلق امور بھی زیر غور آئے ۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک ایران سرحد کو امن اور دوستی کی سرحد قراردیا اور کہا کہ ایران اور پاکستان کی بارڈر مینجمنٹ نہایت ضروری ہے ۔ بارڈر مینجمنٹ سے پاک ایران تعلقات خراب کرنے کی کوشش ناکام ہو گی ۔ دہشتگردی اور انتہا پسندی مشترکہ دشمن ہیں ۔ دونوں ممالک نے باہمی تعاون بڑھانے کے لئے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران برادر پڑوسی ملک ہیں جو ثقافتی تاریخی اور مذہبی رشتے میں جڑے ہوئے ہیں ۔ دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان باہمی تعاون کی ایک تاریخ ہے ۔ دونوں ممالک کی افواج کے درمیان تعاون مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…