اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

صبر کا پیمانہ لبریز،وفاقی حکومت کیخلاف ایک اور محاذکھلنے کو تیار

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

پشاور (آن لائن)خیبرپختونخواہ حکومت نے کہا ہے کہ وفاق کے ذمہ دار بجلی کے سالانہ منافع اور بقایات کی مد میں واجبات بڑھ کر51ارب ہوگئے اور ایک پائی تک ہمیں ادا نہیں کی گئی جبکہ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر اور وزیراعظم کو مزید خطوط لکھنے کی بجائے اب احتجاج کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق خیبرپختونخواہ کے حکام کا کہنا ہے کہ بجلی کے سالانہ منافع اور بقایاجات کی مد میں خیبرپختونخوا

کے مرکز کے ذمہ جاری و گزشتہ مالی سالوں کے واجبات بڑھ کر 51 ارب تک پہنچ گئے اور مرکز نے رابطوں کے باوجود صوبائی حکومت کو صوبہ میں اپنے طور پر گیس یا تیل سے بجلی پیدا کرنے کی اجازت دینے سے بھی انکار کردیا جس کے خلاف صوبائی حکومت نے صدر یا وزیراعظم کو مزید خطوط لکھنے کی بجائے احتجاج کرنے کی تیاریاں تیز کردیں۔ صوبائی وزئیر خزانہ مظفر سید اڈووکیٹ نے رابطہ پر بتایا کہ مرکز نے خیبر پختونخوا کو بجلی منافع کے بقایا جات کی مد میں جاری مالی سال کے 15 ارب میں سے ایک پائی تک ادا نہیں کی جبکہ گزشتہ مالی سال کیلئے بھی اس مد میں 8 ارب روپے مرکز کے ذمہ بقایا ہیں جبکہ سالانہ منافع کی مد میں جاری مالی سال کے 18 ارب اور گزشتہ مالی سال کیلئے 10 ارب روپے مرکز کے ذمہ واجب الادا ہیں جو مجموعی طور پر 51 ارب روپے بن جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکز نہ صرف یہ کہ یہ واجبات دبارکھے ہیں بلکہ این ایف سی کے تحت صوبہ کا جو حصہ بنتا ہے وہ بھی تو اترکے ساتھ ادا نہیں کررہا جس کی وجہ سے صوبہ کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…