اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

بڑی سیاسی جماعت نے اسمبلیوں سے استعفے کی دھمکی دیدی، سیاسی حالات کشیدہ

datetime 22  اکتوبر‬‮  2017 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ دباؤ کی صورتحال میں وفاداری تبدیل کرنے کا عمل ختم نہ کیا گیا تو ہم صوبائی، قومی اور سینیٹ سے استعفیٰ دے کر سیاسی عمل سے علیحدہ ہوجائیں گے۔ایم کیو ایم کے مرکز بہادر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ وفاداری کی تبدیلی کا عمل ناقابل فہم اور ناقابل قبول ہے، آج ہم نے پھر اپنے ایم این ایز ،ایم پی ایز سے پوچھا

ہے اگر دباؤ ہے تو دل کھول کر حقائق بیان کریں۔فاروق ستار نے کہا کہ ہم نے اراکین اسمبلی کو واضح پیغام دیا کہ اگر کسی کو پارٹی پالیسی سے اختلاف ہے تو مستعفیٰ ہوجائے تاہم اگر کہیں سے وفاداری تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے تو ہمیں آگاہ کریں ہر بڑے فورم اور دنیا کے سامنے آواز اٹھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے آج سینیٹرز، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سے استعفیٰ لکھوا لیے ہیں، آئندہ اگر ہمارے لوگوں پر دباؤ ڈالا گیا تو بیک وقت تمام ایوانوں سے مستعفیٰ ہوجائیں گے۔ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ نے کہا کہ اراکین اسمبلی کی وفاداریاں تبدیل کروا کے ہمیں وفاق سے باہر کرنے کی تیاری کی جارہی ہے، دوسری پارٹیوں میں جانے والے نمائندوں نے ابھی تک استعفیٰ نہیں دیے اور وہ تاحال تنخواہیں حاصل کررہے ہیں۔اُن کا مزید کہنا تھاکہ سینیٹ سے شہری سندھ کی ایک نشست چھین کر پیپلزپارٹی کو دینے کی سازش کی جارہی ہے جس سے ہم بروقت پردہ اٹھا رہے ہیں، ایوانوں سے استعفوں کا اثر براہ راست مارچ میں ہوگا کیونکہ اُس وقت سینیٹ کے انتخابات منعقد کیے جائیں گے۔یاد رہے کہ ایم کیو ایم کی جانب سے الزام ہے کہ مقتدر حلقے اراکین اسمبلی کو دباؤ میں لاکر پی ایس پی میں شمولیت کروارہے ہیں جبکہ مصطفیٰ کمال نے حال ہی میں دعویٰ کیا کہ متحدہ کے متعدد اراکین اسمبلی اُن سے رابطے میں ہے۔پی ایس پی ذرائع کے مطابق دسمبر میں متحدہ کے مزید صوبائی اور قومی

اسمبلی کے اراکین مصطفیٰ کمال کی جماعت میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں، حال ہی میں متحدہ کے رکن قومی اسمبلی سلمان مجاہد بلوچ نے پارٹی لیڈر شپ پر الزام عائد کیا کہ فاروق ستار سمیت دیگر رہنماء پی ایس پی قیادت سے مستقل رابطے میں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…