پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

اسحاق ڈار سے استعفیٰ لے لیا گیا، معاملے کو عوام سے کیوں چھپایا جارہا ہے، شاہد مسعود کا بڑا دعویٰ

datetime 21  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی،مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے استعفیٰ لے لیا گیا ،حتمی اعلان وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور نواز شریف کریں گے کہ استعفیٰ کب پبلک کیا جائے۔روزنامہ خبریں کے مطابق یہ دعویٰ سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر شاہدمسعود نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار نے استعفیٰ دے دیا ہے اور ان سے استعفیٰ پر دستخط کرالئے گئے ہیں،سوال یہ ہے کہ

ا ستعفیٰ سے عوام کو کب آگاہ کیا جائے۔ اس کا فیصلہ شاہد خاقان عباسی اور نواز شریف کریں گے۔یاد رہے کہ نیب عدالت نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے تمام بینک اکائونٹس اور اثاثے منجمد کر رکھےہیں ،جبکہ ان کیخلاف ریفرنس کی سماعت 23اکتوبر تک ملتوی کردی گئی‘ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے وکیل خواجہ حارث کے اچانک بیرون ملک جانے کے باعث احتساب عدالت میں سماعت نہ ہوسکی‘ معاون وکیل ایڈووکیٹ مومنہ نے کہا کہ گواہ کا بیان ریکارڈ کرلیں  جرح خواجہ حارث آکر خود کرلیں گے‘ نیب پراسیکیوٹر  نے کہا کہ اسحاق ڈار کو گرفتار کریں وکیل خود آجائے گا‘ اسحاق ڈار  نے کہا کہ میرا اعتماد صرف خواجہ حارث پر ہے ان کے علاوہ کسی  کو وکیل  نہیں کرسکتا‘ نیب پراسیکیوٹر نے اعتراض  کیا کہ خواجہ حارث کیس کے ساتھ کمیٹڈ نہیں ہیں کیس کی سماعت ملتوی کردی۔  بدھ کو اسحاق  ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ  جات ریفرنس کی سماعت اسلام آباد کی احتساب عدالت میں جج محمد بشیر نے کی۔ اسحاق ڈار  چھٹی بار احتساب عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ان کے وکیل خواجہ حارث عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ جونیئر وکیل  نے عدالت کو بتایا کہ خواجہ حارث کو اچانک بیرون ملک  جانا پڑا ہے گواہ کا بیان ریکارڈ کرلیں جرح خواجہ حارث کے آنے  پر کی جائے۔

اس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ قانون کے مطابق ریکارڈ اور جرح ایک ہی دن ہوتی ہے جج نے سوال کیا کہ کب تک خواجہ حارث واپس آئیں گے؟ اس پر معاون وکیل نے جواب دیا کہ خواجہ حارث آئندہ بدھ تک واپس آجائیں گے۔ نیب پراسیکیوٹر  نے کہا کہ خواجہ حارث کیس کے ساتھ کمیٹڈ نہیں ہیں جونیئر وکیل نے کہا کہ یہ کوئی کھیل نہیں ہے۔ جج نے کہا کہ  آپ جرح  بھی کرلیں اس پر  جونیئر وکیل مومنہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ

ہمیں جرح  کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم کو گرفتار کرلیں وکیل خود آجائے گا۔ اس پر جج نے کہا کہ اپنے وکیل سے مشورہ کرلیں  اگلی  تاریخ بعد میں دوں گا۔ جج نے اسحاق ڈار سے سوال کیا کہ کیا آپ کسی اور کو وکیل کرسکتے ہیں۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ میرا اعتماد  صرف خواجہ حارث پر  ہے رات تک مجھے بتایا گیا تھا کہ  خواجہ حارث پیش ہوں گے نیب پراسیکیوٹر  نے عدالت سے استدعا کی کہ سماعت جمعہ تک ملتوی کردی جائے اس کے بعد کیس کی سماعت 23 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…