جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

کینیڈین مغوی خاندان کو پاکستان میں 5 سال تک رکھا گیا اور ان کے ساتھ کیا کام کیا جاتا رہا؟ امریکی خفیہ ایجنسی کا پاکستان پر سنگین الزام

datetime 20  اکتوبر‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ نے کہا ہے کہ گذشتہ ہفتے بازیاب کروائے گئے غیر ملکی خاندان کو پانچ سال تک پاکستان میں ہی رکھا گیا تھا۔ واشنگٹن میں ایک تھنک ٹینک فاؤڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز میں خطاب کرتے ہوئے سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائک پاؤمپے نے کہا کہ ’گذشتہ ہفتے ایک انتہائی اچھا نتیجہ نکلا ہے جب ہم چار امریکی شہریوں کو بازیاب کروا سکے ہیں جنھیں پانچ

سال تک پاکستان میںحبس بے جا میں رکھا گیا تھا۔‘انھوں نے کہا کہ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ افغانستان میں پاکستان کے حوالے سے ہمیں توقعات کم رکھنی چاہئیں۔واضح رہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب کسی امریکی اہلکار نے منظرِ عام پر یہ کہا ہو کہ بازیاب کروایِ گئے خاندان کو پاکستان میں اغوا رکھا گیا تھا۔ان افراد کو 2012 میں افغانستان میں اغوا کیا گیا تھا۔ کارروائی کے بعد ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان مغوی افراد کو افغانستان سے پاکستان منتقل کیا جا رہا تھا اور اس دوران امریکی انٹیلیجنس کی مدد سے پاکستانی فوج نے سرحدی علاقے میں کارروائی کر کے انھیں بازیاب کروایا۔گذشتہ ہفتے پاکستانی فوج کے ایک بیان کے مطابق قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے علاقے میں ایک کارروائی کے دوران پانچ غیر ملکی مغوی افراد کو بازیاب کروا لیا گیا۔ بازیاب کروائے گئے افراد میں ایک کینیڈا کے شہری جوشوا بوئل،ان کی امریکی بیوی کیٹلن کولمین اور تین بچے شامل ہیں۔آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکی حکام کی جانب سے دی جانے والی خفیہ اطلاعات قابلِ عمل تھیں اور ان کی بنیاد پر کیا گیا آپریشن کامیاب رہا اور تمام مغوی بحفاظت بازیاب کروا لیے گئے۔تاہم سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائک پاؤمپے نے اپنے بیان میں کہا کہ اس فیملی کو پانچ سال تک پاکستان میں رکھا گیا تھا۔ اس سے پہلے امریکی اہلکار اپنے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ کہہ چکے ہیں کہ اس بات کے

کوئی شواہد نہیں تھے مغوی خاندان کو افغانستان میں ہی رکھا گیا ہو۔ مائک پاؤمپے نے افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ وہ تمام کوششیں کر رہا ہے جس سے افغان طالبان مذاکرات کی میز پر آ جائیں اور طالبان کو یقین ہو جائے کہ وہ یہ معاملہ میدانِ جنگ میں فتح سے حل نہیں کر سکتے۔اس کے علاوہ مائک پاؤمپے نے ایران اور القاعدہ کے درمیان تعلقات کے تناظر میں یہ بھی کہا کہ آئندہ چند روز میں

امریکی حکومت 2011 میں ایبٹ آباد میں ہونے والی کارروائی کے بارے میں دستاویزات بھی جاری کرے گی۔مغوی خاندان کی بازیابی کے موقعے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ ‘آج وہ (کیٹلن کولمین اور ان کے شوہر جوشوا بوئل اور ان کے بچے) آزاد ہیں۔ یہ ہمارے ملک اور پاکستان کے درمیان تعلقات کے لیے ایک مثبت لمحہ ہے۔ ‘انھوں نے مزید کہا کہ پاکستانی تعاون اس بات کا ثبوت ہے کہ

وہ خطے میں بہتر سکیورٹی فراہم کرنے کی ہماری خواہشات پر عمل کر رہے ہیں۔ ہم دیگر مغوی افراد کی رہائی اور دیگر انسدادِ دہشتگردی آپریشنز کے لیے اس طرح کے تعاون اور ٹیم ورک کی توقع رکھیں گے’۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…