پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

امریکی ڈرون حملے ،پاکستان اور امریکہ میں پھر ٹھن گئی،پاکستان نے امریکی کردار پر سوالات اُٹھادیئے

datetime 18  اکتوبر‬‮  2017 |

ٰاسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہاہے کہ حالیہ امریکی ڈرون حملے زیرو لائن (پاک افغان سرحد) پر ہوئے اور کوئی حملہ پاکستانی حدود میں نہیں ہوا۔ایک انٹرویو میں خواجہ آصف نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر یقیناًکوئی ہائی ویلیو ٹارگٹ ہوگا جسے نشانہ بنانے کے لیے امریکا ڈرون حملے کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ چند سال قبل تک ڈرون حملے روزانہ کا معمول تھے جو پاکستانی حدود میں ہوتے تھے

تاہم ہم نے گزشتہ 4 برسوں سے جاری فوجی آپریشن کے ذریعے ملک کو دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے پاک کیا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ غیر ملکی خاندان افغانستان کی سرحد پار کر کے پاکستان میں داخل ہوئے جس کے بعد پاک فوج نے امریکا کی انٹیلی جنس معلومات پر کارروائی کرتے فیملی کو بازیاب کرایا۔خواجہ آصف نے کہاکہ امریکا سے یہ سوال کیا جانا چاہیے کہ اگر امریکی فوج کے پاس غیر ملکی خاندان کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات تھیں تو اس نے افغانستان میں ہی ریسکیو آپریشن کیوں نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ امریکا نے بلوچستان میں افغان طالبان کے امیر ملا اختر پر ڈرون حملہ کیا حالانکہ وہ انہیں پاکستانی حدود میں داخل ہونے سے قبل بھی ہلاک کر سکتا تھا۔انہوں نے کہاکہ امریکا پاکستانی سرحدوں پر ڈرون حملے میں مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کر کے ہم پر ذمہ داری ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔مسقط میں افغانستان سے متعلق چار فریقی اجلاس کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ مذاکرات کے پہلے مرحلے سے فریقین مطمئن ہیں ٗان مذاکرات سے کچھ زیادہ توقعات وابستہ نہیں تھیں لیکن شروعات ٹھیک ہوئی ہے تاہم حالیہ ڈرون حملے ان مذاکرات میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں۔طالبان پر پاکستانی اثر و رسوخ میں کمی کا اعتراف کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ افغانستان کے دوسرے ہمسایہ ممالک کا اثرو رسوخ بڑھا ہے اور پاکستان کا کم ہوا ہے جس کی بڑی وجہ ہمارا دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کیا گیا فوجی آپریشن ہے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے صرف پاکستان کی ہی انفرادی کوشش نہیں بلکہ افغان حکومت اور امریکا بھی ان سے مسلسل رابطے میں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…