جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

امریکی ڈرون حملے ،پاکستان اور امریکہ میں پھر ٹھن گئی،پاکستان نے امریکی کردار پر سوالات اُٹھادیئے

datetime 18  اکتوبر‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ٰاسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہاہے کہ حالیہ امریکی ڈرون حملے زیرو لائن (پاک افغان سرحد) پر ہوئے اور کوئی حملہ پاکستانی حدود میں نہیں ہوا۔ایک انٹرویو میں خواجہ آصف نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر یقیناًکوئی ہائی ویلیو ٹارگٹ ہوگا جسے نشانہ بنانے کے لیے امریکا ڈرون حملے کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ چند سال قبل تک ڈرون حملے روزانہ کا معمول تھے جو پاکستانی حدود میں ہوتے تھے

تاہم ہم نے گزشتہ 4 برسوں سے جاری فوجی آپریشن کے ذریعے ملک کو دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے پاک کیا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ غیر ملکی خاندان افغانستان کی سرحد پار کر کے پاکستان میں داخل ہوئے جس کے بعد پاک فوج نے امریکا کی انٹیلی جنس معلومات پر کارروائی کرتے فیملی کو بازیاب کرایا۔خواجہ آصف نے کہاکہ امریکا سے یہ سوال کیا جانا چاہیے کہ اگر امریکی فوج کے پاس غیر ملکی خاندان کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات تھیں تو اس نے افغانستان میں ہی ریسکیو آپریشن کیوں نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ امریکا نے بلوچستان میں افغان طالبان کے امیر ملا اختر پر ڈرون حملہ کیا حالانکہ وہ انہیں پاکستانی حدود میں داخل ہونے سے قبل بھی ہلاک کر سکتا تھا۔انہوں نے کہاکہ امریکا پاکستانی سرحدوں پر ڈرون حملے میں مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کر کے ہم پر ذمہ داری ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔مسقط میں افغانستان سے متعلق چار فریقی اجلاس کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ مذاکرات کے پہلے مرحلے سے فریقین مطمئن ہیں ٗان مذاکرات سے کچھ زیادہ توقعات وابستہ نہیں تھیں لیکن شروعات ٹھیک ہوئی ہے تاہم حالیہ ڈرون حملے ان مذاکرات میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں۔طالبان پر پاکستانی اثر و رسوخ میں کمی کا اعتراف کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ افغانستان کے دوسرے ہمسایہ ممالک کا اثرو رسوخ بڑھا ہے اور پاکستان کا کم ہوا ہے جس کی بڑی وجہ ہمارا دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کیا گیا فوجی آپریشن ہے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے صرف پاکستان کی ہی انفرادی کوشش نہیں بلکہ افغان حکومت اور امریکا بھی ان سے مسلسل رابطے میں ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…