جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

یونیورسٹی آف واشنگٹن میں موسیقی کی تربیت دینے والا صدی کا عظیم ترین گلوکار پاکستانی استاد

datetime 13  اکتوبر‬‮  2017 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) استاد نصرت فتح علی خان 13 اکتوبر 1948 کو قوال گھرانے میں آنکھ کھولی۔ نصرت فتح علی خان کے والد فتح علی خان اور تایا مبارک علی خان اپنے وقت کے مشہور قوال تھے۔ ان کے خاندان نے قیام پاکستان کے وقت مشرقی پنجاب کے ضلع جالندھر سے ہجرت کر کے فیصل آباد میں سکونت اختیار کی تھی۔ استاد نصرت فتح علی خان نے اپنی تمام عمر قوالی کے فن کو سیکھنے اور اسے مشرق و مغرب میں

مقبول عام بنانے میں صرف کر دی۔انہوں نے صوفیائے کرام کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا اور ان کے فیض سے خود انہیں بے پناہ شہرت نصیب ہوئی۔ ان کی مشہور قوالی علی مولا علی ایک یادگار ہے۔ بعد میں انہوں نے لوک شاعری اور اپنے ہم عصر شعراء کا کلام اپنے مخصوص انداز میں گا کر ملک کے اندر کامیابی کے جھنڈے گاڑے اور اس دور میں سن چرخے دی مٹھی مٹھی مٹھی کوک ماہی مینوں یاد آوندا اور سانسوں کی مالا میں سمروں میں پی کا نام نے عام طور پر قوالی سے لگاؤ نہ رکھنے والے طبقے کو اپنی طرف راغب کیا اور یوں نصرت فتح علی خان کا حلقہ اثر وسیع تر ہو گیا۔نصرت فتح علی خان صحیح معنوں میں شہرت کی بلندیوں پر اس وقت پہنچے جب پیٹر گبریل کی موسیقی میں گائی گئی ان کی قوالی دم مست قلندر مست مست ریلیز ہوئی۔ اس مشہور قوالی کے منظر عام آنے سے پہلے وہ امریکہ میں بروکلن اکیڈمی آف میوزک کے نیکسٹ ویوو فیسٹول میں اپنے فن کے جوہر دکھا چکے تھے لیکن دم مست قلندر مست مست کی ریلیز کے بعد انہیں یونیورسٹی آف واشنگٹن میں موسیقی کی تدریس کی دعوت دی گئی۔بین الاقومی سطح پر صحیح معنوں میں ان کا تخلیق کیا ہوا پہلا شاہکار 1995ء میں ریلیز ہونے والی فلم ڈیڈ مین واکنگ کا ساؤنڈ ٹریک تھا بعد میں انہوں نے ہالی وڈ کی فلم دی لاسٹ ٹیمپٹیشن آف کرائسٹ اور بالی وڈ میں پھولن دیوی کی زندگی پر بننے والی

متنازع فلم بینڈٹ کوئین کے لئے بھی موسیقی ترتیب دی۔ نصرت فتح علی خان نے جدید مغربی موسیقی اور مشرقی کلاسیکی موسیقی کے ملاپ سے ایک نیا رنگ پیدا کیا اور نئی نسل کے سننے والوں میں کافی مقبولیت حاصل کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…