ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

قادیانیوں کے خلاف اس طرح کیوں بولے؟رانا ثناء اللہ نے کیپٹن(ر) صفدرکوسنادیں،میڈیا کو اہم مشورہ دے ڈالا

datetime 10  اکتوبر‬‮  2017 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ کیپٹن(ر) صفدر کے قومی اسمبلی میں دیئے گئے قادیانیوں کے خلاف بیان کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے، یہ بات غیر ضروری تھی اس بات کو اتنے بڑے لیول پر اس انداز میں کرنے کی ضرورت نہیں تھی، آپ لوگوں سے بھی درخواست ہے کہ کیپٹن صاحب کی بات کو اتنی اہمیت نہ دی جائے، قومی اسمبلی میں اظہار رائے کی آزادی ہے وہاں کوئی کچھ بھی بول سکتا ہے۔

وہ منگل کو نجی ٹی وی سے گفتگو میں کیپٹن(ر)صفدر کے بیان پر رد عمل دے رہے تھے۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اس بات کو زیادہ ڈسکس کرنا درست نہیں کیونکہ احمدی کمیونٹی کے لوگ یہاں پاکستان میں رہتے ہیں، ان کی جال و مال کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، احمدی نماز، روزہ پر عمل کرتے ہیں اور اپنی مساجد بھی بناتے ہیں لیکن یہ ختم نبوت پر اختلاف کرتے ہیں، اگر یہ کہا جائے کہ ان کو فوج میں بھرتی کیا جائے تو اس پر بھی بڑا رد عمل آئے گا، اس لئے اس بات کو زیادہ ڈسکس نہ کیا جائے کیونکہ اس سے جذبات اور زیادہ ابھریں گے اور یہ بات اشتعال کا باعث بنے گی، احمدی خود بھی اپنے آپ کو غیر مسلم نہیں کہتے، علماء کرام کے مطابق احمدی مسجد نہیں بنا سکتے، یہ نماز نہیں پڑھ سکتے اور نہ ہی آذان دے سکتے ہیں۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ نیب آرڈیننس خصوصی مقاصد اور کسی کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے، اس کو اپنی مرضی سے کسی وقت بھی فعال اور غیر فعال کر دیا جاتا ہے، اس میں ترمیم ہونی چاہیے، الیکشن بل کسی نے پڑھا ہی نہیں ہے، جس دن بل پاس ہوا کسی ممبر اسمبلی نے پڑھا ہی نہیں تھا، جس سے اندازہ ہو جاتا کہ کیا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر قانون اور متعلقہ لوگوں کو قانون لازمی پڑھنا چاہیے اور اپوزیشن کو بھی لازمی پڑھنا چاہیے کیونکہ نوک پلک تو اپوزیشن نے سنوارنی ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…