اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

’’کہانی کھل گئی‘‘ سزا یافتہ محمد عامر میچ کےدوران کس ’’چیز‘‘ کا استعمال کرتے ہیں؟ کوچ کا حیران کن انکشاف

datetime 10  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ابوظہبی ٹیسٹ میں ان فٹ ہونے والے محمد عامر کے ڈیپارٹمنٹل کوچ عتیق الزمان قومی ٹیم مینجمنٹ پر برس پڑے .کہتے ہیں فاسٹ بولر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ۔ جسم پر ٹیپ لگا کر کھیلتا ہے ۔ عامر کا استعمال ون ڈے اور ٹی 20 میں کیا جائے ۔تفصیلات کے مطابق سوئی سدرن گیس ٹیم کے کوچ عتیق

الزمان مینجمنٹ پر غصہ اتارنے لگے کہتے ہیں فاسٹ بولر محمد عامر نان اسٹاپ کرکٹ کھیلنے سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے .انہوں نے کہا کہ فاسٹ باؤلر محمد عامر جسم پر ٹیپ لگا کر کھیلتے ہیں .یہی نہیں کوچ نے ٹیم مینجمنٹ کو مشورہ بھی دیدیا کہا محمد عامر کو ون ڈے اور ٹی 20 میچز کھلانے چاہیئے .قومی فاسٹ بولر محمد عامر ابو ظہبی ٹیسٹ میچ میں زخمی ہو کر نہ صرف دوسرے ٹیسٹ بلکہ ون ڈے سیریز کے سکواڈ سے بھی باہر ہو گئے تھے ۔واضح رہے کہ سری لنکا کے خلاف دبئی جاری ڈے نائٹ ٹیسٹ میں پاکستان کی مشکلات میں اضافہ ہو گیاتھا۔ ٹیم انتظامیہ پہلے ہی تین فاسٹ اورایک اسپنرکھلانے کا غلط فیصلہ کرچکے ہیں۔ پھرلیفٹ آرم فاسٹ بولرمحمدعامر بھی انجری کاشکار ہوگئے۔ محمد عامر دبئی ٹیسٹ کے پہلے روز نئی گیند سے اپنا پہلا اورمجموعی طور پرسترہواں اوور مکمل نہ کرسکے لیگ اسپنریاسرشاہ نے عامرکے اوورکے آخری تین گیندیں کراکے اوورمکمل کیا۔ ٹیسٹ میں پاکستان ٹیم پہلے ہی ایک کم اسپنر کے ساتھ کھیل رہی تھی۔ قومی ٹیم کوپارٹ ٹائم اسپنرز حارث سہیل اوراسد شفیق سے بولنگ کراناپڑرہی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…