منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

جرنیلوں اور ججز کا احتساب،فیصلے کی گھڑی آگئی ،حکومت نے بڑا قدم اُٹھالیا،تحریک انصاف کا حیرت انگیز ردعمل

datetime 4  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(این این آئی)نیب قانون کا ازسرنو جائزہ لینے کے لیے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں ججوں اور جرنیلوں کو احتساب قانون کے دائرہ کار میں لانے پر حتمی فیصلہ نہ ہوسکا ٗاحتساب کے نئے قانون کا اطلاق وفاق کی سطح پر ہوگا یا صوبوں میں کمیٹی اس حوالے سے بھی حتمی فیصلہ نہ کر سکی۔اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر قانون زاہد حامد نے کہا کہ ’کمیٹی نے قومی احتساب کمیشن قوانین کے مسودہ پر کافی حد تک اتفاق کرلیا ہے جبکہ مسودہ کمیٹی ارکان کے حوالے کر دیا ہے۔

قانون کے اطلاق سے متعلق اراکین میں اتفاق کے سے حوالے سے زاہد حامد نے کہاکہ جہاں صوبائی اور وفاقی قانون کا ٹکراؤ ہوتا ہے وہاں وفاق کا قانون قابل عمل ہوتا ہے۔انہوں نے کہاکہ سندھ اور خیبر پختونخوا حکومتوں سے مشاورت کے بعد احتساب کے نئے قانون کی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی اور نئے قانون کے اطلاق پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے ارکان اپنی صوبائی حکومتوں سے مشاورت کرکے آگاہ کریں گے۔وزیر قانون نے کہا کہ نئے احتساب قانون میں 15 سال پہلے سے احتساب کا عمل شروع کرنے کی تجویز دی گئی ہے، ججوں اور جرنیلوں کے احتساب سے متعلق تجویز پر ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوسکا، یہ حساس معاملہ ہے جس پر ارکان پارٹی قیادت سے مشاورت کریں گے اور تمام سیاسی جماعتیں آئندہ اجلاس میں مشاورت کے بعد اپنی رائے دیں گی۔انہوں نے کہا کہ نئے قانون میں جان بوجھ کر نادہندہ ظاہر کرنے سے متعلق مقدمات بینکنگ کورٹس کو بھجوانے پر بھی غور کر رہے ہیں۔پی ٹی آئی کے رہنما شاہد محمود قریشی نے کہاکہ الیکشن ایکٹ کی منظوری کے بعد حکومت پر اعتماد متزلزل ہوگیا ہے، پی ٹی آئی اپنی کمیٹی میں نیب قانون کا جائزہ لینے اور قانونی ماہرین سے رائے لینے کے بعد ہی پارلیمانی کمیٹی میں موقف دے گی۔انہوں نے کہا کہ نیب کا قانون انتہائی اہم ہے، ہماری خواہش تھی کہ الیکشن ایکٹ بھی اتفاق رائے سے بنے لیکن شق 203 کی وجہ سے اتفاق رائے کا عمل متاثر ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…